وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے رواں ہفتے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی معیشت اب "انٹینسیو کیئر یونٹ” (آئی سی یو) سے باہر آ چکی ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ بیان ملکی معاشی صورتحال میں بہتری اور استحکام کے اشارے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
تاہم، زمینی حقائق اس دعوے کے برعکس ایک کٹھن سفر کی نشاندہی کرتے ہیں۔ وزیر دفاع کا استدلال زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی پر مبنی ہے، لیکن عام آدمی کے لیے مہنگائی کا بوجھ اب بھی ناقابل برداشت ہے۔ بجلی کے بھاری بل اور ایندھن کی قیمتیں گھروں کے بجٹ کو مسلسل متاثر کر رہی ہیں۔
حکومتی پرامیدی کا بنیادی سہارا بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ ہونے والا حالیہ اسٹاف لیول معاہدہ ہے۔ حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ڈیفالٹ کا خطرہ ٹل چکا ہے اور اب حکومت ساختی اصلاحات پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ دوسری جانب، یہ اصلاحات—جن میں ٹیکسوں کا نفاذ اور سبسڈی کا خاتمہ شامل ہے—عوام کے لیے براہِ راست معاشی دباؤ کا باعث بن رہی ہیں۔
ماہرینِ معاشیات اس ‘طبی تشبیہ’ سے متفق نظر نہیں آتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیفالٹ کا فوری خطرہ ٹلنے کا مطلب یہ نہیں کہ معیشت بحال ہو گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وفاقی بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی کی نذر ہو رہا ہے، جس کے باعث ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح کے لیے فنڈز کی شدید قلت ہے۔
خواجہ آصف کا یہ بیان سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کی ایک کوشش ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ معاشی بحران کے خاتمے کا بیانیہ بنا کر غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے۔ لیکن سرمایہ کار صرف سیاسی بیانات پر نہیں، بلکہ پالیسیوں کے تسلسل اور طویل مدتی استحکام پر نگاہ رکھتے ہیں۔
حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج میکرو اکنامک اعداد و شمار اور عوام کی جیب کے درمیان موجود خلیج کو ختم کرنا ہے۔ مہنگائی کی شرح میں معمولی کمی کا شمار اعداد و شمار میں تو ہو سکتا ہے، لیکن بازار میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں اب بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
جب تک کاروبار کرنے کی لاگت میں کمی نہیں آتی اور متوسط طبقے کی قوتِ خرید مستحکم نہیں ہوتی، وزیر دفاع کا یہ دعویٰ کہ معیشت ‘ہسپتال سے گھر آ گئی ہے’، ان لوگوں کے لیے بے معنی ہے جو آج بھی اپنے ماہانہ اخراجات پورے کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔
