واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سعودی عرب پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ "اب وقت آ گیا ہے” کہ سعودی عرب بھی ابراہم معاہدوں میں شامل ہو کر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے، تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن، استحکام اور علاقائی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے سول جوہری تعاون کے معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ ریاض اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ سعودی عرب بالآخر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا فیصلہ کرے گا، جو پورے خطے کے مفاد میں ہوگا۔
امریکی انتظامیہ نے حال ہی میں سعودی عرب کے پرامن جوہری توانائی پروگرام کے لیے سول نیوکلیئر تعاون کے ایک معاہدے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اس معاہدے پر مکمل عملدرآمد اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ابراہم معاہدوں میں شامل ہو کر اسرائیل کو تسلیم کرے۔
دوسری جانب سعودی عرب نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ٹھوس اور ناقابلِ واپسی پیش رفت کے بغیر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں لائے جا سکتے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق اور دو ریاستی حل کے بغیر کسی بھی قسم کی سفارتی پیش رفت ممکن نہیں۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں ہونے والے ابراہم معاہدوں کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے تھے۔ امریکہ کی خواہش رہی ہے کہ سعودی عرب بھی اس سلسلے میں شامل ہو، کیونکہ اس اقدام کو مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک بڑی سفارتی پیش رفت تصور کیا جاتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان سے واشنگٹن، ریاض اور تل ابیب کے درمیان سفارتی سرگرمیوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔ تاہم سعودی عرب اپنے مؤقف پر قائم ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا فیصلہ فلسطینی مسئلے کے منصفانہ حل سے مشروط رہے گا، جس کے باعث کسی ممکنہ معاہدے کے وقت کے بارے میں فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔
