گلگت: گلگت بلتستان اسمبلی کے تین آزاد ارکان نے باضابطہ طور پر استحکامِ پاکستان پارٹی (آئی پی پی) میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے، جس سے خطے کی سیاسی صف بندی میں نئی ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔
شمولیت اختیار کرنے والوں میں جاوید علی منوا، مشتاق حسین اور عبدالحمید شامل ہیں۔ اسلام آباد میں پارٹی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گلگت بلتستان میں سیاسی استحکام کی کوششیں جاری ہیں اور آزاد حیثیت سے منتخب ارکان کا کردار کلیدی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
آئی پی پی کے لیے یہ قدم اس لحاظ سے اہم ہے کہ پارٹی اپنی توجہ اب پنجاب سے نکال کر دیگر خطوں تک بڑھا رہی ہے۔ علیم خان کی قیادت میں آئی پی پی اب گلگت بلتستان جیسے تزویراتی اہمیت کے حامل خطے میں قدم جمانے میں کامیاب ہو گئی ہے، جہاں وفاقی سطح پر اثر و رسوخ ترقیاتی منصوبوں اور مقامی سیاست میں فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔
مقامی سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ نظریاتی کم اور عملیت پسندی پر مبنی زیادہ ہے۔ آزاد ارکان کے لیے وفاقی ترقیاتی فنڈز یا وزارتوں کے حصول میں مشکلات پیش آتی ہیں، جس کے لیے کسی بڑی سیاسی جماعت کا پلیٹ فارم ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ان ارکان کا خیال ہے کہ آئی پی پی کے ساتھ وابستگی انہیں اسلام آباد کے ایوانوں تک براہِ راست رسائی دے گی، جو ایک آزاد رکن کے لیے ممکن نہیں تھا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گلگت بلتستان کی حکومت بجلی کے بحران اور گندم کی سبسڈی میں کٹوتی جیسے مسائل سے نبردآزما ہے۔ ان تین ارکان نے اس امید پر پارٹی جوائن کی ہے کہ نئی وابستگی انہیں اپنے حلقوں کے مسائل حل کرنے کے لیے درکار سیاسی طاقت فراہم کرے گی۔
دوسری جانب، اپوزیشن نے اس فیصلے کو "سودے بازی” قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اپوزیشن ارکان کا کہنا ہے کہ ووٹرز نے انہیں آزاد حیثیت میں ووٹ دیا تھا تاکہ وہ کسی بڑی جماعت کے ایجنڈے کے پابند نہ ہوں، تاہم اس شمولیت نے ان کے انتخابی مینڈیٹ کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس سیاسی جوڑ توڑ سے گلگت بلتستان کے عوام کو کوئی ریلیف ملے گا؟ اس کا جواب آنے والے اسمبلی اجلاسوں میں ملے گا، جہاں یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ اتحاد حکومت کو قانون سازی اور بجٹ کے معاملات میں درکار اکثریت فراہم کر پائے گا یا نہیں۔
