پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شہرام تراکئی نے کہا ہے کہ پارٹی مذاکرات کے لیے تیار ہے، مگر سب سے پہلے انہیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
پاکستانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو اس کی شکل بدل جاتی ہے، اگر سہیل آفریدی کو روکا جائے گا تو ایک اور سہیل آفریدی سامنے آجائے گا۔” ان کا کہنا تھا کہ آوازوں کو دبانے سے نہیں، بڑھتے ہوئے ردعمل سے حالات بدلتے ہیں۔
شہرام تراکئی نے الزام عائد کیا کہ "ایک جیل سپرنٹنڈنٹ پوری حکومت پر حاوی ہے”، اور یہ کہ بات چیت اسی وقت ممکن ہے جب حکومت ماحول سازگار بنائے۔
پروگرام میں موجود وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا کہ ملاقات صرف قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا عمران خان کو وہی سلوک برداشت کرنا پڑ رہا ہے جس کا سامنا کبھی رانا ثناء اللہ نے کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ "ظلم اتنا ہی کریں جتنا آپ سہہ سکتے ہوں۔”
مصدق ملک نے یہ بھی کہا کہ اگر پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ ان حالات میں کام ممکن نہیں، تو وہ تنخواہیں کیوں لے رہی ہے؟ ان کے مطابق مسائل کا حل ہمیشہ بات چیت سے نکلتا ہے۔ “آپ اپنے ہی صوبے میں الیکشن ہار چکے ہیں،” انہوں نے نشاندہی کی۔
شہرام تراکئی نے اعتراف کیا کہ اگر پی ٹی آئی کے دور میں ناانصافی ہوئی تو وہ بھی غلط تھی۔ “رانا ثناء اللہ کے ساتھ جو ہوا وہ غلط تھا۔ قوم اس وقت مہنگائی، بے روزگاری اور بے امنی کی چکی میں پس رہی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معیشت مستحکم نہیں ہو سکتی۔ ان کے مطابق ملک کے سیاسی، معاشی اور سکیورٹی حالات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ “چاہے ہم نے غلط کیا ہو یا انہوں نے، حکومت میں آنے والا ہمیشہ مخالف کی آواز دبانے کی کوشش کرتا ہے،” انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔
