جنیوا — ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے اہم مذاکرات کاروں کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں جاری خفیہ مذاکرات کے دوران سخت بیانات اور انتباہات کا تبادلہ ہوا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ہونے والی ان بات چیت میں فریقین کے درمیان گہرا عدم اعتماد تاحال برقرار ہے۔
سابق امریکی صدر، جو دوبارہ اقتدار میں آنے کی صورت میں ایران پر "زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی بحال کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں، اپنے قریبی ساتھیوں کے ذریعے یہ واضح کر چکے ہیں کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام پر سخت اور قابلِ تصدیق پابندیاں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے ان مذاکرات کو "کمزور” قرار دیا اور نجی محفلوں میں کہا کہ وہ کسی ایسے معاہدے کو تسلیم نہیں کریں گے جو ان کے سابقہ دور کے فیصلوں سے مختلف ہو۔
دوسری جانب ایرانی وفد، جس کی قیادت تجربہ کار سفارت کار علی باقری کنی کر رہے ہیں، نے بھی سخت موقف اپنایا ہے۔ تہران کے سرکاری میڈیا کے ذریعے جاری کردہ بیانات میں ٹرمپ کی دھمکیوں کو "کھلی اشتعال انگیزی” قرار دیا گیا ہے جو جنیوا عمل کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ایرانی موقف واضح ہے: تہران نئی پابندیوں کے خوف کے سائے میں مذاکرات کی میز پر نہیں آئے گا۔
سوئس حکومت، جو روایتی طور پر غیر جانبدار میزبان کا کردار ادا کرتی ہے، ان چینلز کو فعال رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ جنیوا میں موجود سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکرات کے کمروں میں ماحول انتہائی کشیدہ ہے۔ بظاہر دونوں فریق میز پر موجود ہیں، لیکن حقیقت میں وہ مشترکہ نکات تلاش کرنے کے بجائے اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
اس صورتحال کے نتائج فوری ہو سکتے ہیں۔ علاقائی سیکیورٹی کے ماہرین آبنائے ہرمز کی نازک صورتحال اور لبنان و یمن میں جاری پراکسی تنازعات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوتے ہیں، تو خطے میں فعال محاذ آرائی کا خدشہ بڑھ جائے گا، جہاں فریقین کے پاس سفارتی راستے تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔
ٹرمپ کی ٹیم کا اصرار ہے کہ ان کا جارحانہ انداز ہی واحد طریقہ ہے جو ایران پر اثر انداز ہوتا ہے۔ دوسری طرف تہران کا ماننا ہے کہ خطے میں ایک اور بڑی جنگ کے خدشے کے پیشِ نظر عالمی برادری امریکہ کو اپنے مطالبات میں نرمی لانے پر مجبور کر دے گی۔
فی الحال، مذاکرات کار سوئٹزرلینڈ میں موجود ہیں، مگر ان کے عوامی بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں کے درمیان خلیج کم ہونے کے بجائے مزید وسیع ہو گئی ہے۔ جب تک دونوں فریق اپنے سیاسی مفادات کو ایک پائیدار سمجھوتے پر ترجیح دیں گے، کسی پیش رفت کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔
