برجن اسٹاک، سوئٹزرلینڈ: امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کا پہلا دور “حوصلہ افزا پیش رفت” کے ساتھ مکمل ہو گیا ہے، جسے ثالثین نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی سمت ایک اہم ابتدائی قدم قرار دیا ہے۔
یہ مذاکرات سوئٹزرلینڈ کے علاقے Bürgenstock میں ہوئے، جہاں ثالثی کا کردار پاکستان اور قطر نے ادا کیا، جبکہ سوئس حکام نے بھی سہولت کاری کی۔ مذاکرات میں United States اور Iran کے نمائندے شریک تھے۔
ذرائع کے مطابق دونوں فریقین نے آئندہ 60 دنوں کے دوران مذاکرات جاری رکھنے کے لیے ایک فریم ورک پر اتفاق کیا ہے، جس میں تکنیکی سطح کی بات چیت بھی شامل ہوگی۔
اہم پیش رفت
- 60 روزہ روڈ میپ کے تحت مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق
- رابطے کا نظام قائم کرنے کی پیش رفت تاکہ کشیدگی سے بچا جا سکے
- خطے میں سلامتی خصوصاً بحری راستوں سے متعلق معاملات پر پیش رفت
- پاکستان اور قطر کا ثالثی کردار برقرار رکھنے پر اتفاق
ثالثین کے مطابق مذاکرات کا ماحول “مثبت اور تعمیری” رہا، تاہم بنیادی اختلافات اب بھی موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق پہلا دور بغیر کسی ناکامی کے مکمل ہونا خود ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے، لیکن اصل چیلنج اگلے تکنیکی مذاکرات میں سامنے آئے گا۔
مزید مذاکرات آئندہ دنوں میں متوقع ہیں۔
