اسلام آباد: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دو دن میں دوسری بار پاکستان کا دورہ کیا، جسے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے علاقائی پیش رفت پر مشاورت سے جوڑا۔ دستیاب رپورٹوں کے مطابق عراقچی مختصر قیام کے بعد ماسکو روانہ ہوئے، جبکہ اس سے پہلے وہ عمان بھی گئے تھے۔
اس اچانک اور تیز رفتار سفارتی سرگرمی نے اس دورے کو معمول کی دوطرفہ ملاقات سے کہیں زیادہ اہم بنا دیا ہے۔ ایران کے سرکاری اور نیم سرکاری ذرائع کے مطابق عراقچی کے حالیہ دورے کا مقصد پاکستان، عمان اور روس کے ساتھ دوطرفہ مشاورت، علاقائی صورتحال، اور وسیع تر جغرافیائی سیاسی کشیدگی پر تبادلہ خیال تھا۔
عراقچی اس سے ایک روز قبل بھی اسلام آباد آئے تھے، جہاں ان کی پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں رپورٹ ہوئیں۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق اس دورے میں علاقائی امن، استحکام، اور جاری سفارتی کوششوں پر بات چیت ہوئی تھی، جبکہ ان کا دوسرا دورہ اسی سلسلے کی توسیع دکھائی دیتا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان کو ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ رابطہ کار کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس اور دیگر بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق امریکی نمائندوں کے مجوزہ دورۂ پاکستان میں تبدیلی آئی، مگر پس پردہ سفارتی رابطے اور ثالثی کی کوششیں جاری رہیں۔
اس سارے منظرنامے میں اصل خبر صرف یہ نہیں کہ عراقچی دوبارہ پاکستان آئے، بلکہ یہ ہے کہ تہران بظاہر بدلتی ہوئی علاقائی صورت حال میں تیزی سے مختلف دارالحکومتوں کے درمیان رابطے بڑھا رہا ہے۔ دستیاب معلومات سے یہی تاثر ملتا ہے کہ یہ دورے علامتی کم اور عملی زیادہ تھے، یعنی پیغام رسانی، مشاورت اور ممکنہ تناؤ کم کرنے کی کوشش۔ یہ آخری نکتہ دستیاب رپورٹس کی بنیاد پر ایک تجزیاتی اخذ ہے، کوئی باقاعدہ سرکاری اعلان نہیں۔
پاکستان کے لیے یہ دورہ اس کے سفارتی کردار کو مزید نمایاں کرتا ہے، جبکہ ایران کے لیے یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے بیچ مسلسل سفارتی مشاورت کو ترجیح دے رہا ہے۔ ابھی تک ملاقاتوں کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، مگر اتنا واضح ہے کہ اسلام آباد اس وقت علاقائی سفارت کاری کے ایک اہم پڑاؤ کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
اگر آپ چاہیں
