جیکب آباد جل رہا ہے۔ رواں ہفتے درجہ حرارت 51 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کے بعد یہ شہر ایک بار پھر دنیا کے گرم ترین رہائشی مقامات میں سرفہرست آ گیا ہے۔ یہاں آباد دو لاکھ افراد کے لیے یہ گرمی محض موسم کا بدلتا رنگ نہیں، بلکہ روزانہ کی بنیاد پر بقا کی جنگ ہے۔
بجلی کا نظام اس شدید دباؤ کی تاب نہ لاتے ہوئے بیٹھ چکا ہے۔ بارہ گھنٹے یا اس سے زائد کی لوڈ شیڈنگ کے باعث گھروں میں لگے پنکھے بے جان پڑے ہیں۔ شہر کے محنت کش طبقے—رکشہ ڈرائیور، ریڑھی بان اور دیہاڑی دار مزدور—کے لیے انتخاب انتہائی تلخ ہے: یا تو گھر بیٹھ کر فاقہ کریں، یا پھر اس سورج کے نیچے نکلیں جو چند منٹوں میں ہی ہیٹ اسٹروک کا باعث بن سکتا ہے۔
مقامی دکان دار عبد الستار، جو دوپہر کا وقت ایک عارضی کپڑے کی چھت تلے گزارتے ہیں، کہتے ہیں: "ہوا میں سانس لینا محال ہے، ایسا لگتا ہے جیسے پھیپھڑوں سے آکسیجن کھینچی جا رہی ہو۔” ان کے سر پر گیلا تولیہ رکھا ہے، جو شہر کی گرد آلود اور تپتی سڑکوں پر ایک عام منظر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "جب ہوا خود کسی بھٹی کی طرح گرم ہو تو سایہ بھی کوئی فائدہ نہیں دیتا۔”
ضلع کے طبی مراکز میں ڈی ہائیڈریشن اور ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ہنگامی طبی امداد کے شعبے دباؤ کا شکار ہیں۔ ڈاکٹروں نے شہریوں کو صبح 11 بجے سے سہ پہر 4 بجے تک گھروں کے اندر رہنے کی تنبیہ کی ہے، مگر جن لوگوں کا چولہا روزانہ کی کمائی پر جلتا ہو، ان کے لیے یہ مشورہ کسی لگژری سے کم نہیں۔
جیکب آباد کا جغرافیہ بھی اس کے خلاف ہے۔ سندھ کے اس شہر کی ساخت ایک پیالے جیسی ہے جو گرمی کو اپنے اندر قید کر لیتی ہے۔ درختوں کی کمی اور کنکریٹ کے ڈھانچوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جو دن بھر تپ کر رات بھر گرمی خارج کرتے رہتے ہیں۔ عالمی کلائمیٹ ماڈلز بارہا اس شہر کو ‘ویٹ بلب’ خطرے کا زون قرار دے چکے ہیں، جہاں گرمی اور نمی کا امتزاج انسانی جسم کے لیے ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔
مقامی انتظامیہ نے چند ‘کولنگ سینٹرز’ قائم کیے ہیں جہاں مِسٹنگ فین اور پینے کے پانی کا انتظام ہے، مگر یہ سمندر میں قطرے کے مترادف ہیں۔ ان مراکز تک رسائی محدود ہے اور شہر کے مضافات میں رہنے والوں کے لیے دوپہر کی تپتی دھوپ میں وہاں تک پہنچنا خود خطرے کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
سورج غروب ہونے کے بعد درجہ حرارت میں معمولی کمی تو آتی ہے، مگر گھروں کی دیواریں دن بھر جذب کی ہوئی تپش رات بھر خارج کرتی رہتی ہیں، جس سے مکانات تندور کا روپ دھار لیتے ہیں۔
جیکب آباد کے مکینوں کے لیے موسمیاتی تبدیلی کوئی مستقبل کا خطرہ نہیں، بلکہ ان کے آج کا تلخ زمینی حقائق ہیں۔ ان کے لیے یہ گرمی محض ایک موسم نہیں، بلکہ ہر روز کی وہ آزمائش ہے جس کا سامنا انہیں ہر قیمت پر کرنا ہے۔
