موسمیاتی بحران گہرا: عالمی گرمائش 2.6 ڈگری کی جانب بڑھ رہی ہے
دنیا تاحال اس راستے پر ہے کہ صدی کے آخر تک عالمی اوسط درجہ حرارت تقریباً 2.6 ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کی جانب جائے گی — جو ماہرین کے مطابق انتہائی خطرناک ہے۔
اگرچہ ممالک نے Climate Action Tracker (CAT) کی تازہ تجزیے کے مطابق اپنے اخراج کم کرنے کی حکمت عملییں جمع کروائی ہیں، مگر یہ چار سالوں سے مسلسل دوسری بار ہے کہ گرمائش کی پیشن گوئی تقریباً بدل نہیں پائی۔
رپورٹ نے یہ بھی بتایا ہے کہ موجودہ قومی اہداف — خاص طور پر 2035 کے لیے — “گرمائش کو 1.5 ڈگری تک رکھنے” کے لحاظ سے نمایاں تبدیلی نہیں لا سکیں۔
CAT کے مطابق، موجودہ پالیسیوں اور وعدوں کی بنیاد پر عالمی گرمائش کا اندازہ اب ~2.6 °C ہے، جو پچھلے سال کے اندازے سے تقریباً تبدیل نہیں ہوا۔
اس سال بھی فوسل فیول (کوئلہ، تیل، گیس) کے اخراج میں اضافہ متوقع ہے، جبکہ قابلِ تجدید توانائی کا حصہ تو بڑھ رہا ہے مگر کافی رفتار سے نہیں۔
قدرتی کاربن سنکس جیسے جنگلات اور سمندری نظام اب کم مؤثر ہو چکے ہیں، یعنی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی جاذبیت کم ہوئی ہے، جس نے گرمائش کے رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
گرمائش 2.6 ڈگری تک پہنچنے کی صورت میں ماہرین کے مطابق درج ذیل خطرے نمایاں ہو جائیں گے:
شدید گرمی کی لہر اور انسانی صحت پر اثرات
موسمی پیٹرنز میں تبدیلی، بارشوں کا عدم توازن، مون سون کی عدم یقینی صورتحال
زاعت اور خوراک کی پیداوار میں کمی
گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا، سمندر کی سطح میں اضافہ
ماحولیاتی “ٹپِنگ پوائنٹس” کا فعال ہونا (مثلاً امیزان بارش گاہ کا تبدیل ہونا، کورل ریفس کا مرنا)
رپورٹ کہتی ہے کہ اگر ہم نے ابھی تک گہرے اور فوری اخراجی کٹوتیوں کا آغاز نہ کیا تو 1.5 ڈگری کا ہدف بہت مشکل ہو جائے گا۔ CAT کا کہنا ہے کہ 2030 تک اخراج میں 50 فیصد سے زیادہ کمی لازمی ہے۔
مزید یہ کہ صرف ملکوں کے وعدے کافی نہیں — عملی اقدامات، ٹیکنالوجی کا استعمال، توانائی کی منتقلی، فوسل فیول سے جلد ترک، اور مالی امداد کا نظام جلد بنانا ضروری ہے۔
پاکستان سمیت جنوبی ایشیا جیسے خطوں کو یہ بحران زیادہ شدت سے متاثر کرے گا کیونکہ یہاں:
شدید گرمی کی لہر اور ہیٹ سٹریس کا خطرہ زیادہ ہے
مون سون کی بارشیں اور پانی کی دستیابی غیر یقینی ہو سکتی ہے
گلیشیئر پگھلنے کے باعث پانی کا بہاؤ اور سیلاب کا خطرہ بڑھے گا
زرعی پیداوار اور خوراک کی سیکورٹی متاثر ہو سکتی
یہ رپورٹ سنگین انتباہ ہے — یہ بتاتی ہے کہ دنیا ابھی تک “محفوظ گرمائش” والے راستے سے بہت دور ہے۔ اگر ہم نے فوری، اجتماعی، اور مربوط اقدامات نہ کیے تو مستقبل نہ صرف ماحول کے لیے بلکہ انسانیت، معیشت، اور جنگلی حیات کے لیے بھی شدید خطرے کا سبب بنے گا۔ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
