نئی دہلی حکومت پیٹرول میں 20 فیصد ایتھنول ملانے کے ہدف کے حصول کے لیے کوشاں ہے، لیکن یہ پالیسی لاکھوں موٹرسائیکل اور کار مالکان کے لیے درد سر بن چکی ہے۔ حکومت اسے توانائی کے تحفظ اور ماحولیاتی بہتری کا نام دیتی ہے، مگر سڑکوں پر موجود عام آدمی کے لیے یہ ایندھن گاڑیوں کی کارکردگی میں کمی اور مرمت کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا سبب بن رہا ہے۔
عام صارف کے لیے حساب کتاب کا توازن بگڑ چکا ہے۔ ایتھنول میں خالص پیٹرول کے مقابلے میں توانائی کی مقدار کم ہوتی ہے۔ جیسے جیسے پیٹرول میں ایتھنول کی آمیزش کا تناسب بڑھ رہا ہے، گاڑیوں کی فیول ایوریج تیزی سے گر رہی ہے۔ جو سفر پہلے ایک مخصوص خرچ میں طے ہوتا تھا، اب اس کے لیے بار بار پیٹرول پمپ کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔
نئی دہلی کے نواح میں کام کرنے والے ڈیلیوری رائیڈر راجیش کمار کا کہنا ہے کہ "میری بائیک پہلے ایک لیٹر میں 45 کلومیٹر چلتی تھی، اب 38 کلومیٹر تک پہنچنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔” صرف راجیش ہی نہیں، بلکہ مکینک بھی اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ حالیہ عرصے میں فیول پمپ فیل ہونے اور فیول لائنز میں زنگ لگنے کے واقعات بڑھے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پرانے انجنوں کے لیے ایتھنول کی کیمیائی ساخت نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔
حکومت کا موقف ہے کہ 2023 کے بعد بننے والی گاڑیاں (20 فیصد ایتھنول والا پیٹرول) کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ تاہم، بھارت کی سڑکوں پر موجود کروڑوں گاڑیاں اس تاریخ سے پہلے کی ہیں۔ ان مالکان کے لیے یہ "گرین انیشیٹو” ماحول کی بہتری سے زیادہ ان کی جیب پر ایک پوشیدہ ٹیکس کی طرح ہے۔
آٹوموبائل کمپنیاں بھی ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔ نئی گاڑیاں تو کے معیار کے مطابق تیار کی جا رہی ہیں، لیکن سڑکوں پر موجود پرانی گاڑیوں کو تبدیل کرنے کا کوئی منصوبہ سامنے نہیں آیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ حکومتی پالیسی اور گیراج میں کھڑی گاڑی کی حقیقت کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔
ایک اور بڑی شکایت پیٹرول پمپس پر معلومات کا فقدان ہے۔ اکثر پمپس پر یہ واضح نہیں کیا جاتا کہ فراہم کردہ ایندھن ہے، ہے یا اس میں ایتھنول کا تناسب کیا ہے۔ یہ ابہام پرانی گاڑیوں کے مالکان کو اندھیرے میں رکھتا ہے، جنہیں بعد میں انجن کی خرابی کی صورت میں بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔
بھارت نے 2025 تک ملک بھر میں کی فراہمی کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ مگر حکومتی اہداف اور عام صارف کے تجربے کے درمیان موجود یہ خلیج مسلسل گہری ہو رہی ہے۔ فی الحال، ایک صاف ستھرے مستقبل کے حکومتی وعدے، گاڑیوں کے انجن کو رواں رکھنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے بوجھ تلے دبتے جا رہے ہیں۔
