لاہور — پولیس نے بدھ کی شب ایک مبینہ ٹارگٹ کلر کی بیٹی کو حراست میں لے لیا۔ یہ کارروائی شہر میں برسوں سے جاری قتل کی وارداتوں کی گتھی سلجھانے کے لیے کی گئی ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (سی آئی اے) کی ٹیم نے شہر کے مضافاتی علاقے میں چھاپہ مار کر خاتون کو گرفتار کیا۔ ذرائع کے مطابق، ملزمہ پر الزام ہے کہ وہ نہ صرف اپنے والد کے مفرور ہونے میں مددگار رہی بلکہ ان کے مالی معاملات اور نیٹ ورک کو بھی سنبھالتی تھی۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ مطلوب ملزم گزشتہ ایک دہائی سے قانون کی گرفت سے باہر ہے اور اس کا نام زمین کے تنازعات اور سیاسی رقابتوں کے باعث ہونے والے کم از کم پانچ ہائی پروفائل قتل کے مقدمات میں شامل ہے۔ ملزم اس عرصے کے دوران لاہور اور پنجاب کے مختلف شہروں میں روپوش رہا۔
ایک سینیئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم اب صرف شوٹر کو نہیں ڈھونڈ رہے، بلکہ اس پورے ڈھانچے کو توڑ رہے ہیں جس نے اسے فعال رکھا ہوا تھا۔ خاندان کے افراد محض تماشائی نہیں تھے، وہ اس مجرمانہ لاجسٹکس کا حصہ تھے۔”
یہ گرفتاری روایتی تفتیشی طریقوں سے ہٹ کر ہے۔ پولیس اب مرکزی ملزم تک پہنچنے کے لیے اس کے قریبی حلقوں پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔ تاہم، قانونی ماہرین اس اقدام پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ملزمہ کے وکلاء کا موقف ہے کہ یہ گرفتاری ٹھوس شواہد کے بجائے محض ایک ہتھکنڈا ہے تاکہ مرکزی ملزم کو خود کو پیش کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
مقامی آبادی کے لیے یہ چھاپہ اس پرتشدد ماضی کی یاد دہانی ہے جو شہر کی حالیہ نسبتاً خاموشی کے نیچے دبا ہوا تھا۔ تفتیشی ٹیم اب اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا یہ گرفتاری کسی بڑی کامیابی کی طرف لے جائے گی یا پولیس اور مقامی کمیونٹی کے درمیان خلیج کو مزید وسیع کر دے گی۔
ملزمہ کو جمعہ کے روز مقامی عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے، جہاں پولیس کی جانب سے تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جائے گی۔
