برطانیہ کے حیاتیاتی تنوع سے مالا مال ‘چاک گراس لینڈ’ (چونے والی گھاس کے میدان) تیزی سے ناپید ہو رہے ہیں۔ ماحولیاتی گروپوں نے ان میدانوں کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ ان علاقوں کے سکڑنے سے نایاب تتلیوں اور شہد کی مکھیوں کی کئی اقسام کے معدوم ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
1940 کی دہائی سے اب تک برطانیہ اپنے 80 فیصد چاک گراس لینڈ کھو چکا ہے۔ زرعی توسیع اور روایتی چراگاہی کے نظام کے خاتمے کے باعث جھاڑیاں اور جنگلات ان میدانوں پر قابض ہو گئے ہیں۔ اس تبدیلی نے ان مخصوص جنگلی پھولوں کو ختم کر دیا ہے جن پر ‘ایڈونس بلیو’ اور ‘چاک ہل بلیو’ جیسی نایاب تتلیوں کی بقا کا انحصار ہے۔
انورٹیبریٹ کنزرویشن کی ماہر ڈاکٹر ایلینا روسی کہتی ہیں، "ہم صرف پھول نہیں کھو رہے، بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی نظام کا ڈھانچہ تباہ ہو رہا ہے۔ جب گھوڑے کی کھر جیسے پتے والے پودے ختم ہوتے ہیں، تو تتلیاں بھی غائب ہو جاتی ہیں۔ یہ ایک سادہ سا تعلق ہے۔”
ماہرین اب ‘موزیک مینجمنٹ’ پر زور دے رہے ہیں۔ اس طریقہ کار میں مویشیوں کو ان میدانوں میں چرایا جاتا ہے تاکہ گھاس کو چھوٹا رکھا جا سکے اور خود رو جھاڑیوں کو ان نازک پودوں پر حاوی ہونے سے روکا جا سکے۔ یہ عمل ان جنگلی جانوروں کی نقل کرتا ہے جو صدیوں تک ان میدانوں کو قدرتی طور پر برقرار رکھتے تھے۔
بحالی کے معاشی فوائد بھی واضح ہیں۔ یہ گراس لینڈز نہ صرف کاربن کو جذب کرنے والے قدرتی سنک ہیں بلکہ سیلاب کے خطرے کو کم کرنے میں بھی مددگار ہیں۔ تاہم، حکومتی فنڈنگ اب بھی منتشر ہے۔ ساؤتھ ڈاؤنز اور کوٹس والڈز میں چھوٹے پیمانے پر ہونے والی کوششیں کامیاب رہی ہیں، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ الگ تھلگ ٹکڑے طویل مدتی بقا کے لیے ناکافی ہیں۔
چیلنج بہت بڑا ہے۔ ایک ہیکٹر زمین کی بحالی میں برسوں کی محنت اور مٹی کے انتظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے باوجود، اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ حشرات وہاں واپس لوٹیں گے اگر ان کے ارد گرد کا ماحول سازگار نہ ہوا۔
فی الحال، توجہ ان الگ تھلگ حصوں کو آپس میں جوڑنے پر مرکوز ہے۔ مقصد ایسے ‘نیچر کوریڈورز’ بنانا ہے جن کے ذریعے حشرات ایک محفوظ مقام سے دوسرے مقام تک جا سکیں۔ اگر یہ کوریڈورز نہ بنائے گئے، تو ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ بحالی کے منصوبے صرف قدرتی عجائب گھر بن کر رہ جائیں گے، جہاں زندگی پنپ نہیں سکے گی۔ حشرات کے پاس وقت کم ہے اور زمین مسلسل سکڑ رہی ہے۔
