کراچی میں گزشتہ کئی روز سے جاری شدید گرمی اور حبس کا زور منگل کی سہ پہر سمندری ہواؤں کی بحالی کے ساتھ ہی ٹوٹ گیا۔ شہر قائد کے باسیوں کے لیے یہ تبدیلی ایک بڑی راحت بن کر آئی ہے، جو گزشتہ چار روز سے شدید گرمی کے لہر میں جھلس رہے تھے۔
درجہ حرارت، جو ہفتے کے اختتام پر 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا، سہ پہر تین بجے کے قریب ہواؤں کے رخ بدلنے کے ساتھ ہی گرنا شروع ہو گیا۔ کلفٹن اور ڈیفنس کے ساحلی علاقوں سے لے کر وسطی کراچی کی گنجان آباد بستیوں تک، شہریوں نے اس ٹھنڈی ہوا کو محسوس کیا۔ فضا میں پھیلا وہ جمود، جس نے شہر کو ایک بھٹی میں بدل دیا تھا، اب ختم ہو چکا ہے۔
شہر کی سڑکوں پر دن بھر موٹر سائیکل چلانے والے ڈیلیوری رائیڈر آصف اقبال نے بتایا، "گزشتہ چند دن کسی عذاب سے کم نہیں تھے۔ بائیک کا انجن گرم ہو رہا تھا اور ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے میں کسی بھٹی کے بیچ سے گزر رہا ہوں۔ آج پہلی بار ایسا لگا کہ سانس لینا ممکن ہے۔”
محکمہ موسمیات نے سمندری ہواؤں کی بحالی کی تصدیق کی ہے۔ ماہرین کے مطابق وہ ہائی پریشر سسٹم جو ہواؤں کا راستہ روکے ہوئے تھا، اب کمزور پڑ چکا ہے۔ اگرچہ سمندری ہواؤں کے ساتھ نمی کا تناسب بڑھ گیا ہے، لیکن ‘فیلز لائک’ (محسوس ہونے والا) درجہ حرارت نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔
ہسپتالوں میں گزشتہ چند روز کے دوران ہیٹ اسٹروک اور ڈی ہائیڈریشن کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہوا تو بحال ہو گئی ہے، لیکن نمی کے باعث اب بھی احتیاط لازم ہے۔ ڈاکٹروں نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پانی کا استعمال زیادہ رکھیں، کیونکہ ہوا میں نمی کا تناسب جسمانی تھکن کو چھپا سکتا ہے۔
کراچی کا موسم سمندر سے آنے والی ہواؤں پر منحصر ہے۔ جب یہ ہوائیں رکتی ہیں، تو کنکریٹ اور اسفالٹ سے بنی عمارتیں اور سڑکیں ایک بڑے ہیٹر کی طرح کام کرنے لگتی ہیں۔
محکمہ موسمیات کی اگلی 48 گھنٹوں کی پیش گوئی کے مطابق سمندری ہوائیں جاری رہیں گی اور درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ کے آس پاس رہنے کا امکان ہے۔ گرمی کی شدید لہر تو گزر گئی، تاہم مون سون کے باقاعدہ نظام کے قیام تک شہر کو موسم میں اتار چڑھاؤ کا سامنا رہے گا۔
