ایک امریکی وفاقی جج نے پینٹاگون کو ونڈ ٹربائنز سے متعلق خفیہ تحقیقاتی ڈیٹا جاری کرنے کا حکم دے دیا ہے، جس سے فوجی تنصیبات کے قریب قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں پر عائد طویل پابندی ختم ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
امریکی ڈسٹرکٹ جج تانیا چٹکن کے فیصلے کے تحت محکمہ دفاع کو وہ دستاویزات فراہم کرنا ہوں گی جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ ونڈ فارمز کس طرح ریڈار سسٹمز اور پائلٹ کی تربیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ فیصلہ ان ونڈ انرجی ڈویلپرز کی جانب سے دائر مقدمے کے بعد سامنے آیا ہے جن کا موقف تھا کہ فوج قومی سلامتی کے نام پر بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے نجی انفراسٹرکچر کے منصوبوں کو روک رہی ہے۔
پینٹاگون برسوں سے وسطی امریکہ اور بحر اوقیانوس کے ساحلوں پر ونڈ پاور کے منصوبوں کو یہ کہہ کر روکتا رہا ہے کہ یہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ ڈویلپرز جب بھی اپنے منصوبے ‘سائٹنگ کلیئرنگ ہاؤس’ کے پاس لے کر جاتے، تو انہیں فوجی آپریشنز کے لیے خطرات کا حوالہ دے کر مسترد کر دیا جاتا۔ اس عمل میں اکثر کمپنیاں مہینوں بلکہ برسوں تک بیوروکریٹک الجھنوں میں پھنسی رہیں۔
جج کے حالیہ حکم نامے نے فوج کو جوابدہ بنا دیا ہے۔ اب پینٹاگون کو یہ بتانا ہوگا کہ اسے ونڈ فارمز سے اصل میں کیا خدشات لاحق ہیں۔
انرجی سیکٹر کے نمائندوں نے اس فیصلے کو شفافیت کی فتح قرار دیا ہے۔ امریکن کلین پاور ایسوسی ایشن کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ "حکومت اب قومی سلامتی کے نام پر کلین انرجی کے منصوبوں کو ختم کرنے کے لیے بلینک چیک کا استعمال نہیں کر سکتی۔ ہم دفاعی تیاریوں پر سمجھوتہ نہیں چاہتے، ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ فوج اپنے اعتراضات کے پیچھے موجود حقائق تو دکھائے۔”
دفاعی حکام کا موقف رہا ہے کہ ونڈ ٹربائنز ریڈار پر ‘کلٹر’ (رکاوٹ) پیدا کرتی ہیں، جس سے نچلی سطح پر پرواز کرنے والے طیارے یا کروز میزائل چھپ سکتے ہیں۔ تاہم انرجی سیکٹر کے ماہرین کا استدلال ہے کہ جدید سافٹ ویئر اور ریڈار فلٹرنگ کے ذریعے ان مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے، لیکن پینٹاگون ان تکنیکی حلوں کو جانچنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہا ہے۔
عدالت نے محکمہ دفاع کو حکم دیا ہے کہ وہ 30 دنوں کے اندر روکے گئے مطالعاتی مواد کی فہرست تیار کرے۔ اس کے بعد، دونوں فریقین ایک عدالتی ثالث کی نگرانی میں حساس تکنیکی ڈیٹا کی منتقلی کے عمل کا آغاز کریں گے۔
اگرچہ پینٹاگون کے پاس اب بھی یہ اختیار ہوگا کہ وہ حساس فریکوئنسیز یا مخصوص فوجی تنصیبات کی تفصیلات کو حذف کر سکے، لیکن وہ بنیادی سائنسی ڈیٹا کو مزید دبا نہیں سکے گا۔ ثبوت فراہم کرنے کی ذمہ داری اب فوج پر عائد ہوتی ہے۔ اگر مستقبل میں فوج کسی ونڈ فارم کو روکنا چاہے گی، تو اسے ایسے اعداد و شمار پیش کرنا ہوں گے جو عدالتی جانچ پڑتال پر پورے اتر سکیں۔
یہ فیصلہ وفاقی اراضی کے استعمال کے حوالے سے ایک نئی مثال قائم کرے گا۔ اس سے سرکاری اداروں کو یہ پیغام گیا ہے کہ قومی سلامتی کے دعوے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن وہ انتظامی طریقہ کار کے قانون سے بالاتر نہیں ہیں۔ پینٹاگون کے پاس اب اپنی فائلیں کھولنے کے لیے صرف ایک مہینے کا وقت ہے، اور قابلِ تجدید توانائی کا شعبہ یہ دیکھنے کا منتظر ہے کہ کیا قومی سلامتی کو لاحق خطرات اتنے ہی سنگین ہیں جتنا کہ پینٹاگون دعویٰ کرتا رہا ہے۔
