پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے جیو نیوز کی نشریات 15 دن کے لیے معطل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ ریگولیٹر کی جانب سے منگل کی شب جاری کردہ اس ہدایت کے بعد کیبل آپریٹرز کو چینل فوری طور پر بند کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔
اتھارٹی کا موقف ہے کہ یہ فیصلہ ضابطہ اخلاق کی بار بار خلاف ورزیوں پر کیا گیا ہے۔ پیمرا حکام کے مطابق، چینل پر نشر ہونے والے مواد کے حوالے سے موصول ہونے والی شکایات اور قومی سلامتی کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اقدام اٹھایا گیا۔ حکام نے تصدیق کی کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران چینل کو متعدد اظہارِ وجوہ کے نوٹس جاری کیے گئے تھے، جن کا تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔
جیو نیوز کے لیے یہ معطلی ایک بڑا دھچکا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے نجی نیوز نیٹ ورک کے لیے دو ہفتوں کا بلیک آؤٹ سیاسی طور پر حساس وقت میں پیش آیا ہے۔ چینل کی انتظامیہ نے اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اسے "آزاد صحافت کا گلا گھونٹنے کی کوشش” قرار دیا ہے۔
اس اقدام پر میڈیا تنظیموں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے معطلی کی مذمت کرتے ہوئے اسے خطرناک روایت قرار دیا ہے۔ صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ قانونی شکایات کا ازالہ کرنے کے بجائے پورے چینل کی نشریات بند کرنا جمہوری عمل کے منافی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب ریگولیٹر نے مذکورہ نیٹ ورک کو نشانہ بنایا ہو۔ ماضی میں بھی جیو نیوز کو ریاستی اداروں کے ساتھ تناؤ کے بعد معطلی اور بھاری جرمانوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ہر بار ایسے واقعات کے بعد قانونی جنگ، عوامی احتجاج اور میڈیا کی آزادی کی حدود پر بحث کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
اس معطلی کا فوری اثر ان لاکھوں ناظرین پر پڑے گا جو ہر گھنٹے کی خبروں کے لیے اس نیٹ ورک پر انحصار کرتے ہیں۔ چینل کی قانونی ٹیم بدھ کی صبح عدالت میں ہنگامی درخواست دائر کرے گی، جس میں 15 روزہ معطلی کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی جائے گی۔
عدالت میں کیس کی سماعت سے قبل، نشریات کی بندش نے قومی میڈیا منظرنامے میں ایک خلا پیدا کر دیا ہے، جس کے بعد ناظرین متبادل ذرائع کا رخ کرنے پر مجبور ہیں جبکہ ریگولیٹر اور براڈکاسٹر کے درمیان قانونی کشمکش شدت اختیار کر گئی ہے۔
