واشنگٹن — سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پنسلوانیا میں ایک انتخابی ریلی کے دوران امریکی پاسپورٹ کے ڈیزائن میں انقلابی تبدیلی کی تجویز دے دی ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ مستقبل میں امریکی سفری دستاویزات پر روایتی قومی علامات کے بجائے ان کی اپنی تصویر ہونی چاہیے۔
یہ تجویز سامنے آتے ہی سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ جہاں ٹرمپ کے حامیوں نے اس خیال کو سراہا، وہیں آئینی ماہرین نے اسے ریاستی وقار اور سفارتی اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔
ٹرمپ نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "جب آپ سفر کرتے ہیں تو آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی قیادت کی طاقت کو پہچانا جائے۔ ہم ایک نئے ڈیزائن پر غور کر رہے ہیں۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا اس پاسپورٹ پر ایک ایسا چہرہ دیکھے جسے وہ حقیقت میں جانتی ہے۔”
موجودہ امریکی پاسپورٹ پر ‘گریٹ سیل آف دی یونائیٹڈ اسٹیٹس’ کندہ ہوتی ہے، جو دہائیوں سے امریکی شناخت کی علامت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ڈیزائن کو تبدیل کرنے کے لیے نہ صرف کانگریس سے قانون سازی درکار ہوگی بلکہ محکمہ خارجہ کے سیکیورٹی پروٹوکولز کو بھی مکمل طور پر بدلنا پڑے گا۔
جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں بین الاقوامی قانون کی پروفیسر سارہ جینکنز نے کہا، "پاسپورٹ ایک سفارتی دستاویز ہے جو ریاست کی نمائندگی کرتی ہے، نہ کہ اس شخص کی جو اس وقت اقتدار میں ہو۔ قومی مہر کو کسی سیاسی شخصیت کی تصویر سے بدلنا اسے ایک انتخابی اشتہار میں تبدیل کرنے کے مترادف ہوگا، جس سے غیر ملکی سرحدوں پر سفارتی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔”
اس تبدیلی کی عملی مشکلات بھی کم نہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ برسوں کی تحقیق کے بعد پاسپورٹ میں ایسے ہولوگرام، واٹر مارکس اور بائیو میٹرک چپس شامل کرتا ہے جو جعل سازی کو روکتے ہیں۔ ایک نئے ڈیزائن کے لیے کروڑوں موجودہ دستاویزات کو مرحلہ وار ختم کرنا پڑے گا، جس پر لاکھوں ڈالر کے اخراجات آئیں گے۔
ٹرمپ کی انتخابی ٹیم نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ یہ پاسپورٹ مستقل ہوگا یا ایک محدود ایڈیشن کے طور پر جاری کیا جائے گا۔ تاہم، یہ تجویز ٹرمپ کے اس نظریے کی عکاسی کرتی ہے جس میں وہ اکثر سرکاری اداروں کو اپنی ذاتی شناخت سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔
فی الحال یہ تجویز صرف ایک انتخابی نعرے کی حیثیت رکھتی ہے۔ کیپٹل ہل کی سخت قانون سازی اور بیوروکریسی کے پیچیدہ عمل میں اس کا زندہ رہنا ایک بڑا سوال ہے۔ ایک سینئر معاون نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ٹرمپ بڑے خواب دیکھتے ہیں، لیکن محکمہ خارجہ کی مشینری ان کی رفتار سے بہت مختلف کام کرتی ہے۔”
