بیرسٹر گوہر علی خان نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اب بھی جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ سیاسی اتحاد کے لیے تیار ہے۔ برسوں کی تلخ سیاسی مخالفت کے باوجود، پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں مولانا کے ساتھ مل کر چلنا ایک آپشن ہے۔
یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اپوزیشن کی صفوں میں ہلچل ہے۔ پی ٹی آئی قیادت ایک وسیع تر اتحاد بنانے کے لیے کوشاں ہے، اور وہ مولانا فضل الرحمان کو حکومتی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک اہم اتحادی کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ "ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ ہمارے دروازے کھلے ہیں۔” انہوں نے اس ممکنہ اتحاد کو ذاتی پسند و ناپسند کے بجائے سیاسی ضرورت قرار دیا، اور کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر موجودہ قانون سازی کے عمل میں اپوزیشن کا ایک پیج پر ہونا ضروری ہے۔
تاہم، اس اتحاد کی راہ میں کئی رکاوٹیں ہیں۔ دونوں جماعتوں کے درمیان گزشتہ ایک دہائی سے سخت کشیدگی رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمان، جو 2022 میں عمران خان کی حکومت گرانے والے پی ڈی ایم اتحاد کا مرکزی کردار تھے، حالیہ دنوں میں موجودہ حکومتی سیٹ اپ کے حوالے سے تنقیدی موقف اپنائے ہوئے ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت اسی تبدیلی کو ایک موقع کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے دعوت تو دی جا رہی ہے، لیکن جے یو آئی کا ردعمل فی الحال محتاط ہے۔ مولانا فضل الرحمان اپنی سیاسی چالیں بہت سوچ سمجھ کر چلنے کے لیے جانے جاتے ہیں؛ وہ کسی بھی اتحاد میں شامل ہونے سے پہلے اپنے مطالبات منوانے پر زور دیتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے لیے حساب کتاب بالکل سادہ ہے۔ پارلیمنٹ میں عددی اکثریت کے بغیر، آئینی ترامیم یا انتخابی اصلاحات پر حکومت کو ٹف ٹائم دینا مشکل ہے۔ جے یو آئی کے ساتھ اتحاد پی ٹی آئی کو وہ پارلیمانی وزن فراہم کر سکتا ہے جس کی اسے اس وقت کمی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا مولانا فضل الرحمان نظریاتی خلیج کو پاٹنے کے لیے تیار ہوں گے؟ فی الحال گیند مولانا کے کورٹ میں ہے، اور پی ٹی آئی کو انتظار ہے کہ آیا وہ اس سیاسی پیشکش کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔
