امریکی مغرب کے وسیع و عریض جنگلات اپنی بقا کی جنگ ہار رہے ہیں۔ شدید اور بار بار لگنے والی آگ نے ان جنگلات کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے، جہاں کبھی دیو قامت صنوبر اور دیودار کے درخت ہوا کرتے تھے، اب وہاں صرف جھاڑیوں اور سوکھی گھاس کے میدان باقی رہ گئے ہیں۔
ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ جنگلات کی قدرتی بحالی کا عمل مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔ ماضی میں، آگ جنگل کے لیے ایک ‘ری سیٹ بٹن’ کی طرح کام کرتی تھی، جو مردہ لکڑیوں کو جلا کر نئی پودوں کی نشوونما کے لیے راستہ ہموار کرتی تھی۔ اب صورتحال مختلف ہے۔ آگ کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ درختوں کے بیج زمین میں گرنے سے پہلے ہی راکھ ہو جاتے ہیں، اور نئے پودوں کو پنپنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔
"یہ صرف ایک عارضی تبدیلی نہیں ہے،” جنگلات کی ماہر ڈاکٹر سارہ ملر کہتی ہیں۔ "ہم ایک مستقل تبدیلی دیکھ رہے ہیں۔ چالیس سال پہلے کی نسبت موسم اب زیادہ گرم اور خشک ہے، اور جنگلات آگ کی اس نئی اور تیز رفتار لہر کا مقابلہ کرنے کی سکت کھو چکے ہیں۔”
کولوراڈو، نیو میکسیکو اور کیلیفورنیا کے حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ شدید متاثرہ علاقوں میں سے تقریباً 30 فیصد مقامات پر قدرتی بحالی کا عمل رک چکا ہے۔ جب بڑے درخت ختم ہو جاتے ہیں، تو زمین کی نمی تیزی سے بھاپ بن کر اڑ جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں جھاڑیاں تیزی سے پھیلتی ہیں، جو خود ایک نیا اور زود آتش ایندھن بن کر اگلی آگ کو دعوت دیتی ہیں۔
اس تبدیلی کے اثرات محض لکڑی کے ضیاع تک محدود نہیں ہیں۔ یہ جنگلات کرہ ارض کے لیے کاربن جذب کرنے والے بڑے مراکز اور لاکھوں لوگوں کے لیے پانی کا اہم ذریعہ ہیں۔ جب جنگلات جھاڑیوں میں بدلتے ہیں، تو زمین برف کو روکنے کی صلاحیت کھو دیتی ہے، جس سے موسم بہار میں پانی کا بہاؤ بے ہنگم ہو جاتا ہے اور زمین کا کٹاؤ بڑھ جاتا ہے۔
وفاقی انتظامیہ اب ایک مشکل دوراہے پر کھڑی ہے۔ کیا قدرت کو اپنا راستہ بدلنے دیا جائے یا انسانی مداخلت کی جائے؟ کچھ ادارے ‘اسسٹڈ مائیگریشن’ پر کام کر رہے ہیں، یعنی ایسے درخت لگانا جو گرم اور خشک موسم میں زندہ رہ سکیں۔ تاہم، تباہی کا دائرہ کار اتنا وسیع ہے کہ موجودہ بجٹ اور عملہ اس کے سامنے بے بس نظر آتا ہے۔
مقامی آبادی کے لیے یہ منظر نامہ تشویشناک ہے۔ ان کے بچپن کے گھنے جنگلات اب ویران جھاڑیوں میں بدل رہے ہیں، اور اس رجحان کو روکنے کے لیے کوئی واضح حل موجود نہیں۔ سوال اب یہ نہیں کہ آگ کیسے روکی جائے، بلکہ یہ ہے کہ کیا مغربی امریکہ کے جنگلات اس نئی حقیقت میں اپنی جگہ برقرار رکھ پائیں گے یا نہیں۔
