اسلام آباد — وزیراعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان 19 اپریل 2026 کو ٹیلیفون پر رابطہ ہوا، جس میں علاقائی امن، سلامتی اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ پاکستان کے سرکاری مؤقف کے مطابق وزیراعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اسلام آباد خطے میں امن و استحکام کے لیے “مخلصانہ اور سنجیدہ کوششیں” جاری رکھے گا۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کو سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کی قیادت کے ساتھ اپنے حالیہ رابطوں سے بھی آگاہ کیا۔ اسلام آباد نے اس گفتگو کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا ہے جب خطہ کشیدگی، سفارتی سرگرمیوں اور سکیورٹی خدشات کے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ پاکستان کی کوشش یہ دکھائی دیتی ہے کہ وہ تنازعات میں اضافہ روکنے اور سفارت کاری کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار نمایاں رکھے۔
ایرانی ایوانِ صدر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال، ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اور جنگ بندی سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ رابطہ صرف روایتی دوطرفہ گفتگو نہیں تھا بلکہ اس میں وسیع تر علاقائی سکیورٹی منظرنامہ بھی زیر بحث آیا۔
بعض پاکستانی میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو تقریباً 45 منٹ جاری رہی، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ رابطہ رسمی نوعیت کا نہیں بلکہ نسبتاً تفصیلی تھا۔ رپورٹس کے مطابق دونوں جانب سے اس امر پر زور دیا گیا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے باہمی رابطے جاری رکھے جائیں۔
یہ بھی اہم ہے کہ حالیہ ہفتوں میں شہباز شریف اور مسعود پزشکیان کے درمیان یہ پہلا رابطہ نہیں تھا۔ مارچ 2026 میں بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان رابطے ہوئے تھے جن میں پاکستان نے خطے میں تعمیری کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ اس تسلسل سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد اور تہران کے درمیان سفارتی رابطہ ایک باقاعدہ عمل کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
اس گفتگو کا ایک دوطرفہ پہلو بھی ہے۔ گزشتہ برس کے دوران پاکستان اور ایران کے تعلقات میں اعلیٰ سطح کے روابط برقرار رہے ہیں، جن میں ایرانی صدر کا پاکستان کا دورہ اور مختلف بین الاقوامی فورمز پر ملاقاتیں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امن و سلامتی پر ہونے والی یہ حالیہ گفتگو دراصل دونوں ملکوں کے مستقل سفارتی رابطے کا تسلسل بھی سمجھی جا رہی ہے۔
پاکستان کے لیے اس وقت اصل چیلنج توازن قائم رکھنا ہے۔ ایک طرف اسے ایران کے ساتھ قریبی اور فعال تعلقات برقرار رکھنے ہیں، دوسری طرف خلیجی ممالک کے ساتھ بھی اپنے روابط مضبوط رکھنے ہیں۔ ایران کے لیے بھی پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطہ ایک اہم سفارتی راستہ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں اعتماد کا بحران اور سکیورٹی خدشات بدستور موجود ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو شہباز شریف اور مسعود پزشکیان کی یہ گفتگو ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں ہر سفارتی رابطہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے بیانات سے یہی تاثر ملتا ہے کہ پاکستان اور ایران کشیدگی میں کمی، رابطے کے تسلسل اور علاقائی استحکام کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
