ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعرات کو ایک تازہ پیغام میں امریکا کے خلاف نہایت سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی “جوہری اور میزائل صلاحیت” کو قومی اثاثہ سمجھتا ہے اور اس کا دفاع کرے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج میں کشیدگی بدستور برقرار ہے، جنگ بندی کمزور دکھائی دے رہی ہے، اور امریکی بحری دباؤ نے ایرانی تیل کی برآمدات کو بری طرح متاثر کیا ہوا ہے۔
یہ پیغام “یومِ خلیجِ فارس” کے موقع پر جاری کیا گیا اور اسے ایرانی سرکاری ٹی وی پر پڑھ کر سنایا گیا۔ خامنہ ای نے کہا کہ ایران اپنی زمینی، فضائی اور بحری سرحدوں کی طرح اپنی دفاعی اور تکنیکی صلاحیتوں کی بھی حفاظت کرے گا۔ اسی بیان میں انہوں نے امریکا کی موجودگی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس میں امریکا کی جگہ “اس کے پانیوں کی تہہ” میں ہے۔
اس بیان کی اہمیت صرف لفظی سختی تک محدود نہیں۔ موجودہ بحران میں امریکا کی بحری ناکہ بندی ایران کی معیشت پر براہِ راست دباؤ ڈال رہی ہے، کیونکہ اس کا ہدف ایرانی تیل کی فروخت روکنا ہے۔ دوسری طرف آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے توانائی بہاؤ کا بڑا حصہ گزرتا ہے، ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ ایرانی قیادت کے حالیہ اشاروں سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ تہران اس آبی گزرگاہ کو اپنے اسٹریٹجک دباؤ کے ایک اہم ذریعے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
توانائی کی عالمی منڈی نے بھی اس کشیدگی پر فوری ردِعمل دیا۔ آج کی رپورٹوں کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 126 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ سرمایہ کار اور تاجر اس بحران کے جلد ختم ہونے کے بارے میں زیادہ پُرامید نہیں۔ خلیج میں جاری عسکری اور بحری تناؤ نے صرف ایران اور امریکا ہی نہیں بلکہ عالمی سپلائی لائنز، جہاز رانی اور مہنگائی کے خدشات کو بھی متاثر کیا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی اسی روز امریکی بحری ناکہ بندی کو “ناکام” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حکمت عملی اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے گی بلکہ خطے میں مزید خلل پیدا کرے گی۔ ان کے بیان سے واضح ہے کہ تہران اس دباؤ کو صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ خودمختاری اور علاقائی اثرورسوخ کے سوال کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
اس سارے منظرنامے میں ایک اور اہم پس منظر بھی ہے۔ حالیہ ہفتوں کی رپورٹنگ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای مارچ 2026 میں ایران کے سپریم لیڈر بنے، اور اب ان کی تقاریر اور پیغامات کو تہران کے نئے طاقتور لہجے کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ آج کا بیان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی محسوس ہوتا ہے: پیغام صاف ہے، ایران امریکی دباؤ کے تحت اپنے دفاعی یا جوہری مؤقف سے آسانی سے پیچھے ہٹنے والا نہیں۔
