واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ ان کے خیال میں روس یا چین موجودہ ایران تنازع میں براہِ راست حصہ نہیں لے رہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اس جنگ میں شامل ہوئے تو یہ ان کے لیے بہت برا ثابت ہوگا۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ نے انہیں یقین دہانی کروائی تھی کہ چین کسی بھی صورت ایران کو ہتھیار فراہم یا فروخت نہیں کرے گا اور اس پابندی کا اطلاق چینی کمپنیوں پر بھی ہوتا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی انہیں اسی نوعیت کی یقین دہانی کروائی ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے فضائی حملوں کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ جنگ جاری ہے، ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر سمیت کئی اعلیٰ حکام جاں بحق ہو گئے تھے۔ اگرچہ صدر ٹرمپ نے روس اور چین کی عدم موجودگی کا دعویٰ کیا ہے، تاہم امریکی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ خلیج میں سی آئی اے (CIA) کے ٹھکانوں پر ایرانی حملوں کے بعد اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ آیا روس نے ایران کو حساس معلومات یا ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کی تھی یا نہیں۔ کریملن نے ان رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ امریکہ نے ایران کو ہتھیاروں کی خریداری میں مدد فراہم کرنے کے الزام میں متعدد روسی اور چینی کمپنیوں پر پہلے ہی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
