لندن — امریکی گلوکار کرس براؤن نے لندن کے ایک نائٹ کلب میں ہونے والے مشہور جھگڑے کے کیس میں برطانوی عدالت کے سامنے اپنا جرم قبول کر لیا ہے۔ 24 جولائی کو ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران 37 سالہ گلوکار نے ‘افرے’ (عوامی جگہ پر تشدد یا افرا تفری پھیلانے) کا اعتراف کیا، جس کے بعد اکتوبر میں شروع ہونے والا ممکنہ طویل مجرمانہ ٹرائل ختم ہو گیا ہے۔ اس اعترافی بیان کے بدلے برطانوی استغاثہ نے کرس براؤن کے خلاف عائد دیگر سنگین الزامات، جیسے شدید جسمانی نقصان پہنچانے کی کوشش اور ممنوعہ ہتھیار رکھنے کے مقدمات کو باقاعدہ واپس لینے کی تصدیق کی ہے۔
یہ مقدمہ 19 فروری 2023 کی رات لندن کے پوش علاقے مے فیئر کے ایک نجی کلب ‘ٹیپ’ میں پیش آنے والے واقعے سے متعلق ہے، جہاں کرس براؤن، ان کے وائس کوچ اومولولو اکینلو لُو اور میوزک پروڈیوسر ابراہام ڈیاؤ کے درمیان شدید جھگڑا ہوا تھا۔ اس لڑائی کے دوران پروڈیوسر ابراہام کے سر اور گھٹنے پر گہری چوٹیں آئی تھیں جس کے باعث انہیں ہسپتال منتقل کرنا پڑا تھا۔ برطانوی قانون کے مطابق ‘افرے’ کے جرم میں زیادہ سے زیادہ تین سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ کرس براؤن کو مئی 2025 میں مینچسٹر کے ایک ہوٹل سے گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں انہوں نے 50 لاکھ برطانوی پاؤنڈز کی بھاری ضمانتی رقم جمع کروا کر رہائی حاصل کی تھی۔ عدالت اب کرس براؤن اور ان کے وائس کوچ کو 26 اکتوبر 2026 کو سزا سنائے گی، تاہم قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ جرم کی جلد قبولیت کے باعث انہیں نرم سزا ملنے کا امکان ہے۔
