پاکستان اور ترکیہ نے ریلوے کے شعبے میں اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک نے علاقائی روابط کے فروغ، تجارت میں اضافے اور ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کے لیے تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ یہ اتفاق اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے دوران ہوا، جن میں دونوں ممالک کے حکام نے باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔
ملاقات میں ریلوے منصوبہ بندی، انفراسٹرکچر کی ترقی، لاجسٹکس، جدید ٹیکنالوجی، فنی مہارت کے تبادلے اور پاکستان ریلویز کی استعداد بڑھانے کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔ ترکیہ نے ریلوے کی جدید کاری کے اپنے تجربات پاکستان کے ساتھ شیئر کرنے اور مستقبل میں مشترکہ منصوبوں پر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
مذاکرات میں اسلام آباد–تہران–استنبول (ITI) ریلوے کوریڈور کو خصوصی اہمیت دی گئی، جو پاکستان، ایران اور ترکیہ کو ریلوے کے ذریعے آپس میں ملاتا ہے۔ دونوں ممالک نے اس راہداری کو مزید مؤثر، تیز رفتار اور تجارتی لحاظ سے قابلِ عمل بنانے کے لیے آپریشنل رکاوٹیں دور کرنے، باہمی رابطہ بہتر بنانے اور مال برداری کے نظام کو آسان بنانے پر اتفاق کیا۔ اس اقدام سے جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے درمیان تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ریلوے تعاون دونوں ممالک کی وسیع تر اسٹریٹجک شراکت داری کا حصہ ہے، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی، بحری امور اور ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبے شامل ہیں۔ دونوں ممالک نے باہمی تجارت کا حجم 5 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کے ہدف کو بھی دہرایا اور اس مقصد کے حصول میں بہتر ٹرانسپورٹ روابط کو اہم قرار دیا۔
پاکستان اس وقت ریلوے کے شعبے میں اصلاحات پر کام کر رہا ہے، جن میں اہم ریلوے لائنوں کی اپ گریڈیشن، مال برداری کی صلاحیت میں اضافہ، مسافر ٹرینوں کی بہتری، نجی شعبے کی شمولیت اور جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر شامل ہے۔ توقع ہے کہ ترکیہ کی فنی مہارت اور تجربہ ان منصوبوں کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرے گا۔
دونوں ممالک کے حکام نے اس امید کا اظہار کیا کہ ریلوے کے شعبے میں بڑھتا ہوا تعاون نہ صرف پاکستان اور ترکیہ کے درمیان معاشی تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا بلکہ علاقائی روابط، تجارت اور اقتصادی ترقی کو بھی فروغ دے گا، جس سے پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا۔
