امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ نئے فوجی حملوں کی دھمکی کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے امریکی فوج، اتحادی ممالک یا بین الاقوامی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا تو امریکہ سخت فوجی کارروائی کرے گا۔
امریکی حکام کے مطابق وائٹ ہاؤس ایران کے توانائی کے مراکز اور دیگر اہم اسٹریٹجک تنصیبات کو نشانہ بنانے کے مختلف عسکری آپشنز پر غور کر رہا ہے۔ اگرچہ ابھی کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ایران پر دباؤ بڑھانے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ اس نے کسی بھی ممکنہ امریکی حملے کا جواب دینے کے لیے جامع منصوبہ تیار کر رکھا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کی سرزمین، توانائی کی تنصیبات یا دیگر اہم مراکز کو نشانہ بنایا تو اسے سنگین اشتعال انگیزی تصور کیا جائے گا اور ایران بھرپور فوجی جواب دے گا۔ ایرانی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
یہ تازہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی ماہ سے عدم استحکام کا شکار ہے۔ امریکہ ایران پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ خطے میں امریکی مفادات، فوجیوں اور تجارتی جہازوں پر حملوں کی حمایت کر رہا ہے، جبکہ ایران ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ کو فوجی کارروائیوں اور اقتصادی پابندیوں کے ذریعے خطے میں کشیدگی بڑھانے کا ذمہ دار قرار دیتا ہے۔
صورتحال نے دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو عالمی توانائی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم سفارتی کوششیں بھی پسِ پردہ جاری ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ایران اپنے مؤقف میں نرمی لاتا ہے تو مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے ہیں، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ سیاسی حل کو ترجیح دیتا ہے، لیکن کسی بھی حملے کی صورت میں مؤثر اور سخت جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ فی الحال کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی اور خطے کی صورتحال بدستور نہایت حساس اور غیر یقینی بنی ہوئی ہے۔
