ایران نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی افواج آبنائے ہرمز میں داخل ہو کر وہاں جہازوں کی رہنمائی یا عسکری نگرانی کی کوشش کرتی ہیں تو انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔ یہ دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے “پروجیکٹ فریڈم” کے نام سے ایک نئے آپریشن کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت امریکا آبنائے ہرمز میں پھنسے تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ دینے کا کہہ رہا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق یہ آپریشن پیر، 4 مئی 2026 سے شروع کیا گیا، اور اس کے لیے امریکی بحریہ کے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز، 100 سے زیادہ طیارے اور تقریباً 15 ہزار اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں۔ واشنگٹن اسے ایک انسانی اور بحری سلامتی کا اقدام قرار دے رہا ہے، لیکن تہران کا کہنا ہے کہ یہ جنگ بندی کے ماحول کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے اور آبنائے ہرمز کے معاملات میں امریکی دخل اندازی قبول نہیں کی جائے گی۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ عالمی تیل تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ عام حالات میں اسی راستے سے گزرتا ہے، اسی لیے وہاں کشیدگی کا اثر فوری طور پر توانائی منڈیوں، شپنگ انڈسٹری اور بیمہ لاگت پر پڑتا ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق دو ہزار سے زیادہ جہاز اور لگ بھگ بیس ہزار ملاح اس بحران سے متاثر ہوئے ہیں، جن میں بہت سے جہاز خلیجی پانیوں میں رکے ہوئے ہیں۔
پہلے ہی دن امریکی قیادت میں قائم میری ٹائم ٹاسک فورس نے جہازوں کو روایتی گزرگاہ کے بجائے جنوب کی طرف ایک “بہتر سکیورٹی زون” سے گزرنے کی ہدایت دی۔ اس کی وجہ سمندری بارودی سرنگوں کا خطرہ بتایا گیا، جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ بعض ابھی تک دریافت نہیں ہوئیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکا صرف علامتی اعلان نہیں کر رہا بلکہ عملی طور پر سمندری راستوں کی نئی ترتیب بنانے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔
ایران کا مؤقف اس سے بالکل الٹ ہے۔ ایرانی قیادت اور پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ حلقوں نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کسی بیرونی فوجی طاقت کے “انتظام” کے لیے نہیں کھولی جا سکتی۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی یا کسی اور غیر ملکی فوج نے آبنائے ہرمز میں عسکری انداز میں داخل ہونے کی کوشش کی تو ردعمل سخت ہوگا۔ تہران یہ بھی کہہ رہا ہے کہ جنگ بندی کے بعد ایسے اقدامات حالات کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔
صورتحال اس لیے بھی نازک ہے کہ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے قریب جہازوں پر نئے حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ اے پی کے مطابق تنازع شروع ہونے کے بعد سے متعدد بحری واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں حملے، مشکوک چھوٹی کشتیوں کی نقل و حرکت اور جہازوں کو ہراساں کرنے جیسے واقعات شامل ہیں۔ اس ماحول میں ایک معمولی غلط اندازہ بھی بڑے فوجی تصادم میں بدل سکتا ہے۔
ادھر امریکی سنٹرل کمانڈ، یعنی سینٹ کام، پہلے ہی اپریل 2026 میں آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے آپریشن شروع کرنے کا اعلان کر چکی تھی۔ سینٹ کام کے مطابق امریکی جنگی جہازوں نے 11 اپریل سے ایسی کارروائیاں شروع کیں جن کا مقصد ایک محفوظ بحری راستہ قائم کرنا تھا تاکہ تجارتی آمدورفت بحال ہو سکے۔ یہی پیش رفت اب موجودہ امریکی منصوبے کی بنیاد بنتی دکھائی دیتی ہے۔
سفارتی محاذ پر بھی دروازہ پوری طرح بند نہیں ہوا، مگر اعتماد تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ اے پی اور واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹس کے مطابق ایران ایک امریکی جواب کا جائزہ لے رہا ہے جو ایک مجوزہ فریم ورک کے تناظر میں سامنے آیا، جبکہ واشنگٹن بیک وقت مذاکرات اور دباؤ، دونوں راستے اختیار کیے ہوئے ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ سمندر میں فوجی موجودگی بڑھتی جا رہی ہے اور بیان بازی بھی تیز ہو رہی ہے، اس لیے کسی بھی لمحے حالات ہاتھ سے نکل سکتے ہیں۔
یہ پوری کہانی صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہ ایک بار پھر کھلے تصادم کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ابھی جواب واضح نہیں، مگر ایک بات صاف ہے: آبنائے ہرمز میں طاقت کا مظاہرہ جتنا بڑھے گا، عالمی منڈیوں اور خطے کے امن پر دباؤ بھی اتنا ہی بڑھے گا۔
