نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ عاصم افتخار احمد پاکستان کے نئے خارجہ سیکریٹری ہوں گے۔ یہ تقرری وزارت خارجہ کے اہم ترین عہدے پر ایک بڑا انتظامی ردوبدل ہے، جہاں عاصم افتخار سبکدوش ہونے والے سیکریٹری سائرس سجاد قاضی کی جگہ سنبھالیں گے۔
عاصم افتخار خارجہ سروس کے ایک منجھے ہوئے سفارتکار ہیں۔ وہ اس وقت ایڈیشنل سیکریٹری (اقوام متحدہ اور اقتصادی رابطہ) کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کا کیریئر طویل اور متنوع رہا ہے؛ وہ فرانس میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں اور اس سے قبل تھائی لینڈ میں بھی ملک کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے طور پر ان کا دور میڈیا اور سفارتی حلقوں میں کافی متحرک رہا ہے۔
نئے خارجہ سیکریٹری کو ایک انتہائی پیچیدہ سفارتی منظرنامے کا سامنا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو اس وقت کئی محاذوں پر توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف افغانستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات ہیں، دوسری طرف آئی ایم ایف کے ساتھ معاشی معاہدوں کی سختیاں اور چین کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری کو برقرار رکھنے کا چیلنج۔
دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق، عاصم افتخار کو ایک ایسے "ٹیکنوکریٹ” کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو شور شرابے کے بجائے خاموش سفارتکاری اور ٹھوس مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی یہ مہارت آنے والے دنوں میں اس وقت آزمائش میں ہوگی جب انہیں ‘آغا شاہی بلاک’ کے اندرونی چیلنجز اور بیرونی دباؤ کو سنبھالنا ہوگا۔
سبکدوش ہونے والے سیکریٹری سائرس سجاد قاضی اپنی ملازمت کی مدت پوری ہونے پر ریٹائر ہو رہے ہیں۔ ان کا دور خاص طور پر انتخابات کے بعد کی سفارتی صف بندیوں اور علاقائی سکیورٹی کے بحرانوں سے عبارت رہا۔
عاصم افتخار کی تقرری ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وزارت خارجہ پر "معاشی سفارتکاری” کے ذریعے ملک کے لیے ٹھوس فوائد حاصل کرنے کا دباؤ ہے۔ کیا یہ قیادت کی تبدیلی نئی پالیسیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوگی یا پرانی روایات ہی برقرار رہیں گی، یہ وہ سوال ہے جس پر سفارتی حلقوں کی نظریں جمی ہیں۔
انتظامی کارروائی مکمل ہونے کے بعد عاصم افتخار باضابطہ طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔
