عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں اضافے کے خلاف جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک کا حصہ بننے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ سیاسی اتحاد حکومتی اتحادیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مہنگائی کے ستائے عوام سڑکوں پر نکلنے کے لیے تیار ہیں۔
اے این پی کی صوبائی قیادت نے بدھ کی شب اس پیش رفت کی تصدیق کی۔ دونوں جماعتوں کی نظریاتی تاریخ مختلف ہے، مگر ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے انہیں ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لا کھڑا کیا ہے۔
پشاور میں ایک مختصر پریس کانفرنس کے دوران اے این پی کے ترجمان نے کہا، "ہم ملک کو ڈوبتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔ جب عام آدمی کے لیے روزگار پر جانا اور گھر کا خرچ چلانا محال ہو جائے، تو سیاسی اختلافات ثانوی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔”
حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی میں اضافہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی شرائط کا حصہ ہے، جسے حکومت معاشی استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیتی ہے۔ دوسری جانب، اپوزیشن جماعتیں اسے غریب عوام پر بوجھ ڈالنے کا نام دے رہی ہیں۔ جماعت اسلامی گزشتہ کئی روز سے ملک کے بڑے شہروں میں دھرنے اور مظاہرے کر رہی ہے، اور اب اے این پی کی شمولیت سے خیبر پختونخوا میں اس تحریک کو مزید عوامی حمایت ملنے کا امکان ہے۔
حکومتی حلقوں کے لیے یہ اتحاد ایک نئی پریشانی کا باعث ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ معاشی اصلاحات کے لیے یہ اقدامات ضروری ہیں، تاہم اپوزیشن کا کہنا ہے کہ معاشی بوجھ صرف نچلے طبقے پر ڈالنا غیر منصفانہ ہے۔
ذرائع کے مطابق، دونوں جماعتیں اگلے 48 گھنٹوں میں مشترکہ احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کریں گی۔ توقع ہے کہ یہ احتجاج محض بیانات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اہم تجارتی مراکز اور حکومتی دفاتر کے سامنے مظاہروں کی شکل اختیار کرے گا۔
کیا یہ اتحاد حکومت مخالف ایک بڑی تحریک کا پیش خیمہ ثابت ہوگا؟ اس کا جواب آنے والے دنوں میں ملے گا۔ فی الحال، ان جماعتوں کا واحد ہدف پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس سے قبل حکومت کو پیٹرول کی قیمتوں میں کمی پر مجبور کرنا ہے۔ اگر حکومت نے اپنا فیصلہ واپس نہ لیا، تو پشاور سمیت ملک بھر میں بڑے پیمانے پر عوامی مظاہرے متوقع ہیں۔
