اسلام آباد — وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے اسلام آباد میں شیشہ کیفیز کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے شہر بھر میں شیشہ پینے اور پلانے پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے تحت ان تمام کیفیز کے ‘نو آبجیکشن سرٹیفکیٹس’ بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں جو اب تک قانونی طور پر کام کر رہے تھے۔
یہ فیصلہ عوامی صحت کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ شیشہ کیفیز میں استعمال ہونے والے تمباکو اور دیگر کیمیکلز کے معیار کی نگرانی ممکن نہیں، جس کے باعث یہ صحت کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ ماضی میں انتظامیہ نے کیفیز کو محدود کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن اب انتظامیہ نے کسی بھی رعایت کے بغیر مکمل بندش کا فیصلہ کیا ہے۔
نئے احکامات کے مطابق، اب شہر کا کوئی بھی کیفے، چاہے اس کے پاس پہلے سے اجازت نامہ موجود ہو، شیشہ فراہم نہیں کر سکے گا۔ انتظامیہ نے ایف-6، ایف-7 اور بلیو ایریا سمیت دیگر کمرشل مراکز میں ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں تاکہ پابندی پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
ضلعی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ فیصلہ حتمی ہے۔ "ہم کسی پرانے معاہدے یا اجازت نامے کو نہیں دیکھ رہے۔ حکم واضح ہے: شیشہ کیفیز کا کاروبار بند ہے اور تمام پرمٹ منسوخ کر دیے گئے ہیں۔”
کارروائی کے دوران اگر کوئی کیفے کھلا پایا گیا تو نہ صرف اسے فوری طور پر سیل کر دیا جائے گا بلکہ مالکان کے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔ اس سلسلے میں انسدادِ تمباکو نوشی کے آرڈیننس کا سہارا لیا جائے گا۔
شہر کے تاجروں اور کیفے مالکان کی تنظیموں نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے یہ کاروبار زیرِ زمین منتقل ہو سکتا ہے، جس سے نگرانی مزید مشکل ہو جائے گی۔ تاہم، ضلعی انتظامیہ اپنے فیصلے پر قائم ہے اور اس بات پر زور دے رہی ہے کہ صحت عامہ کے مفاد میں یہ سخت قدم اٹھانا ناگزیر تھا۔
اسلام آباد میں شیشہ کیفیز کی بندش کے بعد اب انتظامیہ کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ شہر میں کہیں بھی اس غیر قانونی سرگرمی کا تسلسل نہ رہے۔ آنے والے دنوں میں ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں ان مقامات کا دورہ کریں گی جہاں سے شکایات موصول ہوئی ہیں۔
