پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) نے عارف خان ساقی کیس میں اپنے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس معاملے میں مرکزی کردار ادا کرنے والے علی گوہر شاہ کا اب جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
جماعت کی قیادت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ علی گوہر شاہ کافی عرصہ قبل فنکشنل لیگ چھوڑ کر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) میں شامل ہو چکے تھے۔ پارٹی کا یہ موقف اس کوشش کا حصہ دکھائی دیتا ہے جس کا مقصد پیر پگارا کی جماعت کو اس تنازع اور قانونی پیچیدگیوں سے دور رکھنا ہے۔
فنکشنل لیگ کے لیے اب ترجیح یہ ہے کہ وہ ان الزامات سے دامن بچائے جو ساقی کے گرد گھوم رہے ہیں۔ علی گوہر شاہ کی سیاسی وابستگی کو پیپلز پارٹی سے جوڑ کر، فنکشنل لیگ نے بالواسطہ طور پر ذمہ داری کا بوجھ اپنے حریفوں پر ڈال دیا ہے۔
سندھ کے سیاسی حلقوں میں یہ واقعہ وفاداریوں کی تبدیلی پر ایک نئی بحث چھیڑ رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب مقامی تنازعات عوامی اسکینڈل کی شکل اختیار کر لیں تو جماعتوں کا فوری طور پر لاتعلقی کا اظہار کرنا ایک پرانا سیاسی حربہ ہے۔ تاہم، اس بار فنکشنل لیگ کا ردعمل غیر معمولی حد تک تیز ہے۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے تاحال اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، لیکن فنکشنل لیگ کے بیان نے سیاسی میدان میں ایک لکیر کھینچ دی ہے۔ انہوں نے نہ صرف واقعے سے دوری اختیار کی ہے بلکہ یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ اب ایسے کسی بھی فرد کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں جو ان کی صفوں سے نکل کر مخالف کیمپ میں جا چکا ہو۔
جیسے جیسے قانون نافذ کرنے والے ادارے اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں، فنکشنل لیگ کی یہ حکمت عملی اس بات کا اشارہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے امیج کو بچانے کے لیے کس قدر تیزی سے فیصلے کرتی ہیں۔ کیا یہ تکنیکی دوری انہیں کیس کے اثرات سے محفوظ رکھ پائے گی؟ اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں تحقیقات کے نتائج کریں گے۔
