سمندری طوفان ’لوویل‘ نے منگل کی صبح ساحلی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں تیز ہواؤں اور شدید بارشوں کے باعث کم از کم 30 ہزار گھروں اور کاروباری مراکز کی بجلی منقطع ہو گئی۔ گرڈ اسٹیشنوں کو پہنچنے والے نقصان اور سڑکوں پر پانی جمع ہونے کی وجہ سے بحالی کا کام تاحال سست روی کا شکار ہے۔
طوفان نے صبح چار بجے کے قریب زمین سے ٹکرایا، جس کے دوران ہواؤں کی رفتار 85 میل فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی۔ سورج نکلنے تک درختوں کے گرنے اور ملبے کے ڈھیروں نے اہم شاہراہوں کو بند کر دیا، جس سے کئی دیہی علاقے امدادی ٹیموں کی پہنچ سے دور ہو چکے ہیں۔
بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کی ترجمان ماریہ سانتوس نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "گرڈ کا بنیادی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ جب تک ہوا کی رفتار کم نہیں ہوتی، کرین اور دیگر مشینری کا استعمال ممکن نہیں، اس لیے بجلی کی بحالی میں وقت لگے گا۔”
مقامی ہسپتالوں میں طوفان کے دوران ملبے سے ٹکرانے اور جنریٹر کے غلط استعمال کے باعث زخمی ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سڑکوں پر نکلنے سے گریز کریں، کیونکہ طوفان کے بادل تاحال فضا میں موجود ہیں اور مزید بارش کا خدشہ برقرار ہے۔
بجلی نہ ہونے کے باعث متاثرہ علاقوں میں معمولات زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے پناہ گاہیں کھول دی ہیں، تاہم بہت سے رہائشی گھروں میں ہی موجود ہیں اور بجلی بحال ہونے کے منتظر ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کا سلسلہ رات گئے تک تھم جائے گا، لیکن بجلی کی مکمل بحالی اور صفائی کا کام ہفتے کے اختتام تک جاری رہ سکتا ہے۔
طوفان اب خشکی کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس کی شدت میں بتدریج کمی آ رہی ہے، تاہم حکام نے متنبہ کیا ہے کہ طوفان کی زد میں آنے والے دیگر علاقوں کے مکین اپنے ہنگامی کٹس تیار رکھیں۔ جو 30 ہزار افراد اس وقت تاریکی میں زندگی گزار رہے ہیں، ان کے لیے اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔
