الیکشن کمیشن آف پاکستان اسلام آباد، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں طویل عرصے سے التوا کا شکار بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے حتمی ٹائم لائن پر کام کر رہا ہے۔ قانونی پیچیدگیوں اور انتظامی تاخیر کے کئی ماہ گزرنے کے بعد، کمیشن اب ان علاقوں میں انتخابی عمل مکمل کرنے کے لیے نئی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے۔
یہ پیش رفت سپریم کورٹ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں مقامی سطح پر آئینی تقاضوں کے مطابق حکمرانی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ میونسپل سطح پر عوامی نمائندوں کی عدم موجودگی کے باعث صفائی سے لے کر بنیادی ڈھانچے تک کی خدمات کا نظام کئی اضلاع میں مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔
اسلام آباد میں یہ تاخیر خاصی متنازع رہی ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں میئر کا عہدہ طویل عرصے سے خالی ہے، جہاں الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت مردم شماری اور حلقہ بندیوں کے معاملے پر ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالتے رہے ہیں۔ کمیشن کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب حتمی تاریخ دینے کے حق میں ہے، بشرطیکہ حکومت ضروری فنڈز اور سیکیورٹی کی ضمانت فراہم کرے۔
پنجاب کو مختلف نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ صوبے میں 2019 میں لوکل کونسلز تحلیل ہونے کے بعد سے بلدیاتی نظام فعال نہیں ہے۔ اگرچہ صوبائی حکومت نے انتخابات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم الیکشن کمیشن انتظامی حدود میں بار بار تبدیلیوں کے حوالے سے محتاط ہے تاکہ قانونی چارہ جوئی سے بچا جا سکے۔
اندرونی مشاورت سے واقف ایک عہدیدار نے کہا، "ہم اس آنکھ مچولی سے تھک چکے ہیں۔ کمیشن نہیں چاہتا کہ دوبارہ عدالت جانا پڑے، اس لیے شیڈول کے اعلان سے پہلے قانونی پہلوؤں کو فول پروف بنایا جا رہا ہے۔”
خیبر پختونخوا کو اپنے لاجسٹک مسائل کا سامنا ہے، خاص طور پر سابقہ فاٹا اضلاع کو بلدیاتی ڈھانچے میں ضم کرنے اور سیکیورٹی کی صورتحال کے حوالے سے۔ الیکشن کمیشن کے حکام فی الحال یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ انتخابات مرحلہ وار ہوں یا پورے صوبے میں ایک ساتھ۔
اگرچہ وفاقی حکومت نے تاحال بجٹ کی حتمی منظوری نہیں دی، مگر الیکشن کمیشن اس ہفتے کے اختتام تک مسودہ شیڈول کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر کمیشن اپنے فیصلے پر قائم رہتا ہے تو انتخابی عمل اگلے سہ ماہی میں شروع ہو سکتا ہے۔
فیصلہ اب اس بات پر منحصر ہے کہ آیا حکومت تین بڑے انتخابی عمل کے مالی بوجھ کے مقابلے میں مقامی جمہوریت کی بحالی کو ترجیح دیتی ہے یا نہیں۔ اگر فنڈز جاری نہ کیے گئے تو الیکشن کمیشن کو ایک بار پھر انتخابات ملتوی کرنا پڑ سکتے ہیں، جس سے لاکھوں شہری غیر معینہ مدت تک عوامی نمائندگی سے محروم رہیں گے۔
