ایرانی صدر مسعود پزشکیان اپنے عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی بار سرکاری دورے پر آج اسلام آباد پہنچ گئے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے کی سکیورٹی صورتحال اور معاشی چیلنجز دونوں ممالک کے لیے آزمائش بنے ہوئے ہیں۔
دو روزہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کے لیے ایک کڑی جانچ ہے۔ گزشتہ برس سرحد پر ہونے والی کشیدگی کے بعد، اسلام آباد اور تہران اب اپنے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں، جن کی تاریخ باہمی شکوک و شبہات اور معاشی مجبوریوں کے گرد گھومتی رہی ہے۔
صدر پزشکیان کے ایجنڈے پر سب سے اہم اور مشکل معاملہ پاک ایران گیس پائپ لائن ہے۔ یہ منصوبہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے امریکی پابندیوں کے خوف کے باعث تعطل کا شکار ہے۔ پاکستان ایک طرف اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بے چین ہے، تو دوسری طرف اسے واشنگٹن کی جانب سے ممکنہ مالی پابندیوں کا بھی خدشہ ہے۔
ایک اعلیٰ پاکستانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ، "یہ دورہ محض تصاویر بنوانے کے لیے نہیں ہے۔ بات چیت کا محور توانائی کی سخت ضروریات اور سرحدی استحکام ہے۔”
سکیورٹی کا معاملہ اس دورے کا دوسرا اہم پہلو ہے۔ بلوچستان اور سیستان کی طویل اور غیر محفوظ سرحد دونوں ممالک کے لیے درد سر بنی ہوئی ہے، جہاں سے عسکریت پسند اکثر سرحد پار حملوں کے لیے راستہ استعمال کرتے ہیں۔ توقع ہے کہ دونوں جانب کے سکیورٹی حکام انٹیلی جنس شیئرنگ اور مشترکہ گشت کے طریقہ کار پر بات کریں گے تاکہ باغی گروپوں کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔
صدر پزشکیان کے لیے یہ دورہ ایران کی سفارتی تنہائی کو توڑنے کی ایک تزویراتی کوشش ہے۔ تہران اسلام آباد کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنا کر اپنے علاقائی حریفوں کے مقابلے میں ایک اہم پڑوسی اتحادی کو ساتھ ملانا چاہتا ہے۔
اس دورے کی کامیابی کا اندازہ اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیوں سے نہیں، بلکہ اس بات سے لگایا جائے گا کہ آیا دونوں ممالک روایتی بیان بازی سے نکل کر ان توانائی منصوبوں پر کام شروع کر پاتے ہیں جو برسوں سے منجمد ہیں۔
اگر اس دورے میں کسی ٹھوس روڈ میپ پر اتفاق نہ ہو سکا، تو یہ دورہ محض ایک سفارتی رسمی کارروائی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
