درجہ حرارت میں اضافہ صرف تکلیف کا باعث نہیں، بلکہ یہ ایک طبی ہنگامی صورتحال ہے۔ جب پارہ نقطہ عروج پر ہو تو انسانی جسم کا قدرتی کولنگ سسٹم ناکام ہونے لگتا ہے۔ ہیٹ اسٹروک تب ہوتا ہے جب جسم کا اندرونی درجہ حرارت 104 ڈگری فارن ہائیٹ سے تجاوز کر جائے۔ بروقت طبی امداد نہ ملنے کی صورت میں یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
بچاؤ کا سنہری اصول سادہ ہے: پانی کا کثرت سے استعمال اور احتیاط۔ پیاس لگنے کا انتظار مت کریں۔ اگر آپ کے ہونٹ خشک ہو رہے ہیں یا سر میں درد شروع ہو چکا ہے، تو سمجھ لیں کہ جسم میں پانی کی کمی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ باہر نکلنے کے لیے صبح سویرے یا غروبِ آفتاب کے بعد کا وقت منتخب کریں۔ اگر شدید دھوپ میں باہر جانا ناگزیر ہو، تو ہلکے رنگ کے کھلے کپڑے پہنیں تاکہ پسینہ آسانی سے خشک ہو سکے اور جسم کا درجہ حرارت متوازن رہے۔
ہیٹ اسٹروک کی علامات کو پہچاننا زندگی اور موت کا فرق ثابت ہو سکتا ہے۔ پسینہ آنا بند ہو جانا خطرے کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ مریض کی جلد سرخ، گرم اور خشک ہو جاتی ہے کیونکہ جسم پانی بچانے کے لیے پسینہ خارج کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ الجھن، بولنے میں لڑکھڑاہٹ، نبض کا تیز ہونا یا بے ہوشی اس کی واضح علامات ہیں۔ ایسی صورت میں ایمبولینس کے انتظار کے ساتھ ساتھ فوری ابتدائی طبی امداد شروع کریں۔
مریض کو فوری طور پر کسی سایہ دار یا ٹھنڈی جگہ منتقل کریں۔ غیر ضروری کپڑے اتار دیں تاکہ ہوا کا گزر ممکن ہو۔ جسم کا درجہ حرارت کم کرنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اگر پانی دستیاب ہو تو مریض پر چھڑکاؤ کریں یا گردن، بغلوں اور رانوں کے جوڑوں پر برف کی پٹیاں رکھیں؛ یہ وہ مقامات ہیں جہاں خون کی شریانیں جلد کے قریب ہوتی ہیں۔ اگر مریض نیم بے ہوش یا الجھن کا شکار ہو تو اسے زبردستی پانی یا دوا نہ پلائیں، کیونکہ یہ دم گھٹنے کا سبب بن سکتا ہے۔
ڈاکٹرز کے مطابق، جسم کا درجہ حرارت گر جانے کا مطلب یہ نہیں کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ ہیٹ اسٹروک اعضاء پر شدید دباؤ ڈالتا ہے جس کے اثرات کئی دن تک رہ سکتے ہیں۔ مریض کے ہوش میں آنے کے بعد بھی گردے یا دل کی پیچیدگیوں کی نگرانی ضروری ہے۔
اگر آپ کسی ایسے شخص کی دیکھ بھال کر رہے ہیں جسے ‘ہیٹ ایگزاسشن’ (ہیٹ اسٹروک سے پہلے کی کیفیت) ہے، تو اسے فوری ٹھنڈے ماحول میں لائیں اور وقفے وقفے سے پانی یا نمکیات والا مشروب پلائیں۔ اگر آدھے گھنٹے کے اندر بہتری نہ آئے یا مریض کو الٹیاں شروع ہو جائیں، تو سمجھ لیں کہ معاملہ بگڑ چکا ہے۔ اسے ہیٹ اسٹروک تصور کریں اور فوری ہسپتال پہنچائیں۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہیٹ ویوز اب زیادہ شدید اور طویل ہو رہی ہیں۔ ماحول بے رحم ہو سکتا ہے، لیکن بیداری ہی آپ کا سب سے موثر دفاع ہے۔ شدید گرمی میں کام کے بجائے اپنی صحت کو ترجیح دیں؛ آپ کا جسم آپ کو سنبھلنے کا دوسرا موقع نہیں دے گا۔
