کراچی کے علاقے کورنگی میں بدھ کی صبح ایک تین سالہ بچی کی بوری بند لاش ملنے سے علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ پولیس کے مطابق بچی کی لاش بلال کالونی کے قریب سے ملی، جس کی بازیابی کے لیے اہلخانہ گزشتہ رات سے کوشش کر رہے تھے۔
بچی منگل کی شام اپنے گھر کے باہر کھیلتے ہوئے لاپتہ ہوئی تھی۔ ایک مزدور کی بیٹی کے لاپتہ ہونے کے بعد اہلخانہ نے رات بھر مقامی گلیوں میں تلاش جاری رکھی، تاہم صبح سویرے لاش ملنے کی اطلاع نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔
جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کی ابتدائی طبی رپورٹ نے دل دہلا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ ڈاکٹروں نے بچی کے جسم پر تشدد کے شدید نشانات کی تصدیق کی ہے۔ پولیس اب مکمل فرانزک رپورٹ کی منتظر ہے تاکہ موت کی حتمی وجہ اور جنسی زیادتی کے پہلو کی تصدیق کی جا سکے۔ تفتیشی حکام فی الحال انتہائی حساسیت کے پیشِ نظر شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔
علاقے کے ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ "ہم اس بربریت کے پیچھے کارفرما ہر ممکنہ پہلو کی جانچ کر رہے ہیں۔ ارد گرد کی گلیوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ملزمان کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا جا سکے۔”
واقعے کے کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ بلال کالونی کے رہائشیوں نے بدھ کی سہ پہر مقامی پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کیا اور فوری انصاف اور سیکیورٹی کے سخت انتظامات کا مطالبہ کیا۔
یہ واقعہ شہر کے صنعتی علاقوں میں سیکیورٹی کی ناکامیوں کو ایک بار پھر بے نقاب کر رہا ہے۔ اگرچہ پولیس نے کورنگی میں گشت بڑھانے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن متاثرہ خاندان اب بھی انصاف کی دہلیز پر کھڑا ہے۔
بچی کی نمازِ جنازہ بدھ کی رات ادا کر دی گئی۔ کورنگی کے مکینوں کے لیے یہ المناک واقعہ شہر میں بچوں کے عدم تحفظ کا ایک ایسا تلخ استعارہ بن گیا ہے جس نے معاشرے کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔
