کراچی میں پیر کے روز رواں سال کا گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا، جب درجہ حرارت اولڈ ایئرپورٹ ویدر اسٹیشن پر 44.1 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ موجودہ موسمی رپورٹوں کے مطابق یہ شہر میں 2018 کے بعد سب سے زیادہ درجہ حرارت تھا، جس سے حالیہ گرمی کی شدت مزید نمایاں ہو گئی۔
درجہ حرارت میں اس تیز اضافے نے صحتِ عامہ، بجلی کی طلب اور روزمرہ کام کرنے والے افراد کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔ کراچی میں حالیہ دنوں سے گرمی کا دباؤ موجود تھا، مگر تازہ درجہ حرارت نے صورتِ حال کو اور زیادہ سنگین بنا دیا، خاص طور پر کھلے آسمان تلے کام کرنے والوں، بچوں، بزرگوں اور اُن لوگوں کے لیے جن کے پاس مناسب ٹھنڈک کی سہولت نہیں۔
اس عدد کی اہمیت تاریخی پس منظر میں اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کراچی میں مئی کے مہینے میں اس سے زیادہ شدید گرمی آخری بار 2018 میں 46 ڈگری سینٹی گریڈ کی صورت میں دیکھی گئی تھی، جبکہ شہر میں مئی کا اب تک کا بلند ترین درجہ حرارت 1938 میں 48 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ یعنی 44.1 ڈگری کوئی معمولی سطح نہیں بلکہ ایک سنجیدہ موسمی صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔
ایسی گرمی میں بنیادی پیغام واضح ہے: دوپہر کے اوقات میں غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کیا جائے، پانی زیادہ پیا جائے، اور گرمی سے متعلق علامات کو معمولی نہ سمجھا جائے۔ کراچی میں شدید گرمی صرف موسم کی خبر نہیں رہتی، بلکہ بہت جلد اسپتالوں، سڑکوں، گھروں اور روزمرہ زندگی پر اثر ڈالنے لگتی ہے۔
