پاکستان کے محکمہ موسمیات نے 18 جولائی سے ملک بھر میں شدید مون سون بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، جس کے بعد بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ اور نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ بحیرہ عرب سے آنے والا ایک طاقتور موسمی نظام ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے گا، جس کے نتیجے میں وقفے وقفے سے موسلادھار بارشیں متوقع ہیں۔
ماہرینِ موسمیات کے مطابق یہ بارشیں معمول کی مون سون سرگرمیوں سے کہیں زیادہ شدید ہو سکتی ہیں۔ لاہور، راولپنڈی اور پشاور جیسے گنجان آباد شہروں کے لیے ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے، جہاں نکاسی آب کا ناکارہ نظام پہلے ہی شدید بارشوں کے دوران شہریوں کے لیے دردِ سر بنا رہتا ہے۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کو فوری طور پر ہنگامی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کی تازہ ترین ایڈوائزری کے مطابق، مون سون ہوائیں جمعرات تک ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہوں گی، جبکہ بارش کا سب سے زیادہ زور 18 سے 22 جولائی کے درمیان رہے گا۔
محکمہ موسمیات کے ایک سینئر افسر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم ایک طاقتور موسمی سسٹم کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ موجودہ ماڈلز کے مطابق بارش کی شدت اتنی زیادہ ہو سکتی ہے کہ شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خدشہ ہے، اسی لیے ضلعی انتظامیہ کو نالوں کی فوری صفائی کا حکم دیا گیا ہے۔”
پنجاب اور خیبر پختونخوا کے کاشتکاروں کو بھی محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اگرچہ مون سون کی بارشیں زرعی شعبے کے لیے اہم ہیں، لیکن ندی نالوں میں طغیانی کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں پانی کے اخراج کا قدرتی راستہ بند ہو چکا ہے۔
محکمہ موسمیات نے شمالی علاقہ جات کا رخ کرنے والے سیاحوں کے لیے بھی الرٹ جاری کیا ہے۔ خیبر پختونخوا، گلیات اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ برقرار ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے سیاحوں سے کہا ہے کہ وہ سفر سے قبل موسم کی صورتحال کو ضرور جانچیں، کیونکہ شدید بارشوں کے باعث سڑکیں بند ہونے کا امکان موجود ہے۔
گزشتہ ایک ہفتے سے جاری شدید حبس اور گرمی کے بعد یہ بارشیں درجہ حرارت میں نمایاں کمی لائیں گی، تاہم شہری مراکز میں ناقص منصوبہ بندی کے باعث یہ ریلیف کئی مشکلات کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
فی الحال مقامی انتظامیہ کے لیے ہدایات واضح ہیں: نکاسی آب کے نظام کو ہنگامی بنیادوں پر فعال کریں اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔
