کراچی کے مصروف ترین راستوں میں شمار ہونے والا ملیر ندی کا پل آئندہ 48 گھنٹوں کے لیے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ یہ پل کورنگی کو شہر کے دیگر حصوں سے ملانے والی ایک اہم شاہراہ ہے، جس کی بندش سے ہزاروں مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
کراچی ٹریفک پولیس نے منگل کی رات جاری کردہ اعلامیے میں بتایا کہ پل کے ایکسپینشن جوائنٹس (expansion joints) کی ہنگامی مرمت ناگزیر ہو چکی تھی۔ کام کا آغاز فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد اب شہریوں کو جام صادق پل یا دیگر متبادل راستوں کا رخ کرنا پڑے گا۔
اس بندش نے کورنگی انڈسٹریل ایریا کے تاجروں اور صنعت کاروں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ صنعتی زون میں کام کرنے والے ایک لاجسٹکس مینیجر کا کہنا ہے کہ "دو دن کا ٹریفک جام پیداواری عمل کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ ہم وقت پر ترسیل کے لیے اسی پل پر انحصار کرتے ہیں، اور متبادل راستوں پر پہلے ہی گنجائش سے زیادہ ٹریفک کا دباؤ ہے۔”
ٹریفک حکام نے موٹر سائیکل اور کار سواروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سفر سے قبل اپنی حکمت عملی تیار رکھیں تاکہ عین وقت پر پھنسنے سے بچ سکیں۔ اہم موڑ پر اضافی وارڈنز تعینات کیے گئے ہیں، تاہم حکام کا ماننا ہے کہ بھاری ٹریفک کا دباؤ اب رہائشی علاقوں کی چھوٹی سڑکوں پر منتقل ہوگا، جس سے وہاں بھی رش بڑھے گا۔
مرمت کرنے والی ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں تاکہ جمعرات کی رات تک کام مکمل کیا جا سکے۔ اگر موسم سازگار رہا اور کام شیڈول کے مطابق آگے بڑھا، تو پل کو جمعہ کی صبح ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
فی الحال ٹریفک مینجمنٹ سینٹر نے واضح کیا ہے کہ اس بندش میں کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ بھاری گاڑیوں کو قائد آباد اور لانڈھی کے متبادل راستوں کی طرف موڑا جا رہا ہے تاکہ مین روڈ پر کام کی رفتار متاثر نہ ہو۔
