جنوبی فرانس کے علاقے ہیرالٹ میں جنگلات کو خاکستر کرنے والی آگ کے واقعات میں ملوث ہونے کے شبے میں ایک 37 سالہ رضاکار فائر فائٹر کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق، ملزم نے تفتیش کے دوران آگ لگانے کا اعتراف کر لیا ہے۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ملزم نے یہ آگ تنہا لگائی۔ شدید گرمی اور تیز ہواؤں کے دوران اس نے خشک گھاس میں آگ بھڑکانے کے لیے لائٹر کا استعمال کیا۔ یہ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ درجنوں رہائشیوں کو اپنے گھر چھوڑنا پڑے اور زرعی زمینوں کو شدید نقصان پہنچا۔
مونٹپیلیئر کے سرکاری استغاثہ نے منگل کے روز گرفتاری کی تصدیق کی۔ ملزم کئی برسوں سے مقامی فائر سروس کا حصہ تھا اور اپنی ڈیوٹی پر معمور تھا۔ اگرچہ اس کے محرکات تاحال واضح نہیں، تاہم مقامی حکام کا ماننا ہے کہ وہ ہنگامی صورتحال پیدا کر کے خود کو ‘ہیرو’ ثابت کرنا چاہتا تھا۔
ایک سینئر علاقائی فائر آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، "یہ وردی کے ساتھ غداری ہے۔ جب کوئی ایسا شخص جسے ہم اپنا محافظ سمجھتے ہیں، وہی خطرے کا باعث بن جائے، تو یہ پورے معاشرے کا اعتماد توڑ دیتا ہے۔”
ملزم کے ساتھی اس اعتراف پر صدمے میں ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ملزم ان آگ بجھانے والی ٹیموں کا بھی حصہ رہا جو اس آگ کو قابو کرنے کی کوشش کر رہی تھیں جسے اس نے خود لگایا تھا۔ نفسیاتی ماہرین کے مطابق اسے "ہیرو سنڈروم” کہا جاتا ہے، جس میں فرد توجہ حاصل کرنے کے لیے خود ہی بحران پیدا کرتا ہے۔
فرانس کی وزارت داخلہ نے علاقے میں گشت بڑھا دی ہے۔ خشک موسم کے پیشِ نظر حکام کو خدشہ ہے کہ اگر اس طرح کے واقعات جاری رہے تو جانی نقصان کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق، جرم ثابت ہونے پر ملزم کو 15 سال قید اور 1 لاکھ 50 ہزار یورو تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ فی الحال اسے نفسیاتی معائنے کے لیے حراست میں رکھا گیا ہے۔
اس گاؤں کے رہائشیوں کے لیے یہ گرفتاری کسی سکون کا باعث نہیں ہے۔ وہ پورا ہفتہ اپنی پہاڑیوں کو جلتا دیکھتے رہے، یہ جانتے ہوئے کہ جس شخص سے انہیں جان بچانے کی امید تھی، وہی آگ لگانے کا ذمہ دار نکلا۔
