نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی کا سیاسی غلبہ، جو کبھی ناقابلِ تسخیر دکھائی دیتا تھا، اب ایک کٹھن حقیقت کا سامنا کر رہا ہے۔ بھارت بھر میں وہ نوجوان طبقہ جو مودی کے اقتدار میں آنے کا سب سے بڑا محرک تھا، اب حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ اس ناراضگی کی بنیادی وجہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور تعلیمی نظام میں بدعنوانی ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ترقی کے بیانیے میں دراڑیں واضح ہو رہی ہیں۔ دہلی کی سڑکوں سے لے کر بہار کی یونیورسٹیوں تک، ہزاروں طلبہ سڑکوں پر ہیں۔ یہ نوجوان صرف مقامی پالیسیوں کے خلاف نہیں، بلکہ مودی دور کے اس بنیادی وعدے کو چیلنج کر رہے ہیں کہ ایک مضبوط اور مرکزی حکومت جدید اور میرٹ پر مبنی بھارت بنائے گی۔
اعداد و شمار اس کشیدگی کی تصدیق کرتے ہیں۔ بھارت میں گریجویٹس کے درمیان بے روزگاری کی شرح 30 فیصد کے قریب ہے۔ جب رواں سال نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے نیٹ میڈیکل داخلہ امتحان میں مبینہ دھاندلی اور پیپرز لیک کیے، تو یہ صرف ایک امتحان کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ اس نسل کے لیے ایک ‘بوائلنگ پوائنٹ’ ثابت ہوا جو سمجھتی ہے کہ نظام ان کے خلاف ہے۔
راجستھان سے تعلق رکھنے والے ایک 21 سالہ میڈیکل کے امیدوار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، "ہم نے برسوں محنت کی، سب کچھ قربان کر دیا، اور اب ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ امتحان تو پہلے ہی بک چکا تھا۔” ان کا غصہ اس وسیع تر احساس کی عکاسی کرتا ہے کہ ‘وکست بھارت’ (ترقی یافتہ بھارت) کا نعرہ ان لوگوں کے لیے محض ایک کھوکھلا جملہ بن چکا ہے جو روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔
اس سیاسی ہلچل کے اثرات حالیہ عام انتخابات میں بھی دیکھے گئے۔ بی جے پی اپنی واضح اکثریت کھو بیٹھی اور اب اسے حکومت بچانے کے لیے اتحادیوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کا ووٹ، جو کبھی مودی کی قوم پرست سیاست کی بنیاد تھا، اب محفوظ نہیں رہا۔ اپوزیشن نے ان امتحانی اسکینڈلز کو محض انتظامی ناکامی نہیں، بلکہ حکومتی دیوالیہ پن قرار دیا ہے۔
مودی کا ردعمل دفاعی رہا ہے۔ حکومت نے این ٹی اے کی قیادت تبدیل کی اور نقل روکنے کے لیے سخت قوانین بنائے، مگر بہت سے نوجوانوں کے لیے یہ اقدامات محض ‘خانہ پری’ ہیں۔ ایک ایسے لیڈر کے لیے جس نے اپنی ساکھ فیصلہ کن اور مضبوط حکومت کے نام پر بنائی ہو، طلبہ کے دباؤ میں آ کر پالیسی بدلنا ایک غیر معمولی کمزوری ہے۔
حکمران جماعت کے لیے اصل خطرہ صرف احتجاج نہیں، بلکہ مودی کی ‘ناقابلِ شکست’ شبیہ کا ٹوٹنا ہے۔ ایک دہائی تک بی جے پی نے اپنی کارکردگی اور حتمی کامیابی کا جو تاثر دیا تھا، وہ اب دھندلا رہا ہے۔ اب حکومت کو یہ سمجھ آ رہا ہے کہ وہ صرف کرشماتی شخصیت کے بل بوتے پر سڑکوں کے شور کو خاموش نہیں کر سکتے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا مودی حکومت آئندہ ریاستی انتخابات سے قبل نوجوانوں کو کوئی ٹھوس معاشی ریلیف دے پائے گی؟ اگر ایسا نہ ہوا، تو مودی کی ناقابلِ شکست شبیہ تاریخ کا حصہ بن جائے گی اور اس کی جگہ ایک مایوس ووٹر کی غیر متوقع حقیقت لے لے گی۔
