تہران، 24 جولائی: ایران نے عراقی رہنما کے ذریعے پیش کی گئی امریکہ کی حمایت یافتہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس تجویز میں دیرپا امن کی ضمانتیں شامل نہیں تھیں اور نہ ہی ایران کے اہم سیکیورٹی خدشات کا مناسب حل پیش کیا گیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق جنگ بندی کی یہ تجویز عراقی ثالثی کے ذریعے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے مقصد سے پیش کی گئی تھی۔ تجویز میں عارضی طور پر جنگ روکنے کی بات کی گئی تھی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں۔
تاہم ایران نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ ایسی کسی عارضی جنگ بندی کو قبول نہیں کرے گا جس میں مستقبل میں حملوں سے بچاؤ کی مضبوط ضمانتیں موجود نہ ہوں۔ ایرانی حکام کے مطابق مختصر مدت کی جنگ بندی مسئلے کا مستقل حل نہیں بلکہ صرف تنازع کو وقتی طور پر روکنے کا ذریعہ بنے گی۔
دوسری جانب امریکہ نے اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے اسے اعتماد سازی کی ایک اہم کوشش قرار دیا، جس کا مقصد خطے میں تشدد کم کرنا اور سفارتی عمل کو دوبارہ فعال بنانا تھا۔ عراق سمیت خطے کے دیگر ممالک بھی دونوں فریقوں پر مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے لیے زور دے رہے ہیں تاکہ کسی بڑے علاقائی بحران سے بچا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے جنگ بندی کی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اگر تنازع جاری رہا تو اس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
اگرچہ یہ سفارتی کوشش فی الحال کامیاب نہیں ہو سکی، تاہم علاقائی ثالثوں کی کوششیں جاری ہیں۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان ایسے مذاکرات ہوں گے جو تمام فریقوں کے سیکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کر سکیں۔
