کراچی کے بجلی کے نظام میں ایک بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے شہر میں بجلی کی فراہمی کے لیے ایک نئی کمپنی کو لائسنس جاری کر دیا ہے، جس کے ساتھ ہی کراچی میں کے الیکٹرک کی دہائیوں پر محیط اجارہ داری کا باضابطہ خاتمہ ہو گیا ہے۔
یہ پہلا موقع ہے جب ملک کے تجارتی مرکز کے رہائشیوں کو بجلی کے لیے ایک متبادل فراہم کنندہ میسر ہوگا۔ یہ فیصلہ برسوں سے جاری لوڈ شیڈنگ، بلنگ تنازعات اور ناقص انفراسٹرکچر کے خلاف عوامی شکایات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
دو کروڑ سے زائد آبادی والے شہر کے لیے یہ فیصلہ مارکیٹ میں مسابقت لانے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ نیپرا کا مقصد سروس کے معیار کو بہتر بنانا ہے تاکہ صارفین کے پاس انتخاب کا حق ہو۔ اگر نئی کمپنی اپنے مختص کردہ علاقوں میں گرڈ کو مستحکم کرنے میں کامیاب رہتی ہے، تو کے الیکٹرک کی قیمتوں اور سروس کے معیار پر وہ دباؤ آئے گا جو نجکاری کے بعد سے کبھی نہیں دیکھا گیا۔
توانائی کے شعبے کے ایک سینیئر تجزیہ کار نے اعلان کے فوراً بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "مقصد واضح ہے: ہم اس ‘لینا ہے تو لو، ورنہ چھوڑو’ والی ثقافت سے نکلنا چاہتے ہیں جس نے کراچی کے بجلی کے شعبے کو جکڑ رکھا ہے۔ لیکن اصل چیلنج صرف لائسنس کا حصول نہیں، بلکہ اس شہر میں انفراسٹرکچر کھڑا کرنا ہے جو پہلے ہی صلاحیت سے زیادہ بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔”
نئی کمپنی کے لیے راہ آسان نہیں ہوگی۔ کراچی کی بوسیدہ ترسیلی لائنیں اور لوڈ شیڈنگ کا پیچیدہ نظام بھاری سرمایہ کاری کا متقاضی ہے۔ ناقدین پہلے ہی اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ شہر میں جہاں شہری منصوبہ بندی کا فقدان ہے، وہاں متوازی نیٹ ورک بچھانا ایک انتظامی امتحان ہوگا۔
کے الیکٹرک، جو دو دہائیوں سے شہر کا واحد فراہم کنندہ ہے، نے تاحال اس پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔ تاہم پس پردہ اسٹیک ہولڈرز یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ ریگولیٹری فریم ورک ایک ہی گرڈ پر دو مسابقتی کمپنیوں کے کام کرنے کے بوجھ کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟
حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ یہ طویل مدتی استحکام کے لیے ضروری قدم ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ مسابقت بجلی کی قیمتوں میں کمی لائے گی یا کراچی کے عام آدمی کے لیے بلنگ کا نظام مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔
فی الحال، اجارہ داری کا طلسم ٹوٹ چکا ہے۔ اب یہ مقابلہ بجلی کی فراہمی کو بہتر بناتا ہے یا صرف دعووں تک محدود رہتا ہے، اس کا فیصلہ نئی کمپنی کے باقاعدہ آپریشن شروع کرنے کے بعد ہی ہوگا۔
