مغربی یورپ کا نقشہ اس وقت سرخ دکھائی دے رہا ہے۔ پرتگال کے صنوبر کے جنگلات سے لے کر جنوبی فرانس کے انگور کے باغات تک، فائر فائٹرز آگ کے ایسے شعلوں سے نبردآزما ہیں جنہوں نے ہزاروں ایکڑ اراضی کو راکھ کر دیا ہے اور ہزاروں مکینوں کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔
اس تباہی کا فوری محرک ایک شدید اور طویل ہیٹ ویو ہے۔ اسپین اور پرتگال کے کئی حصوں میں درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ (107 فارن ہائیٹ) سے تجاوز کر چکا ہے، جس نے پورے خطے کو ایک بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے۔ جنوب میں چلنے والی تیز ہوائیں، جنہیں مقامی زبان میں "لیوانٹر” کہا جاتا ہے، آگ کے شعلوں کو فائر بریک سے آگے بڑھا رہی ہیں، جس کے باعث زمینی عملے کے لیے آگ پر قابو پانا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔
انسانی نقصان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پرتگال میں ایمرجنسی سروسز نے 100 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے، جن میں زیادہ تر متاثرین دھوئیں کے باعث سانس کی تکلیف میں مبتلا ہیں۔ لیریا (Leiria) ڈسٹرکٹ میں ہزاروں رہائشیوں کو راتوں رات گھر خالی کرنے کا حکم دیا گیا کیونکہ آگ رہائشی بلاکس کے قریب پہنچ چکی تھی۔ بہت سے لوگوں کے لیے یہ 2017 کے ان ہولناک آتشزدگی کے واقعات کی یاد تازہ کرنے جیسا ہے جن میں درجنوں زندگیاں ضائع ہوئی تھیں۔
حکومتی سطح پر ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پرتگال نے "الرٹ کی حالت” نافذ کر کے فوج کو سول پروٹیکشن ٹیموں کی مدد کے لیے طلب کر لیا ہے۔ سرحد کے دوسری جانب، ہسپانوی حکام نے سیرا ڈی لا کولیبرا کے علاقے میں آگ بجھانے والے خصوصی طیارے تعینات کیے ہیں، جہاں آگ پہلے ہی حیاتیاتی تنوع کے اہم مراکز کو تباہ کر چکی ہے۔
ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ کوئی اتفاقی حادثات نہیں ہیں۔ آئی پی سی سی کی رپورٹ کے مطابق، بحیرہ روم کا خطہ عالمی اوسط سے 20 فیصد زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔ ان علاقوں میں مٹی کی نمی گزشتہ دو دہائیوں کی نچلی ترین سطح پر ہے۔ جب ایسی خشک جھاڑیوں پر چنگاری گرتی ہے، تو آگ صرف جلتی نہیں، بلکہ دھماکے کی طرح پھیلتی ہے۔
مقامی حکام اب زمین کے انتظام پر سخت سوالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ دیہی علاقوں سے نقل مکانی کے باعث جنگلات کا ایک بڑا حصہ غیر محفوظ ہو چکا ہے، جہاں گھنی جھاڑیاں آگ کے ایندھن کا کام کرتی ہیں۔ اگرچہ اس وقت تمام تر توجہ جان و مال کے تحفظ پر ہے، لیکن آگ بجھنے کے بعد ہونے والی تحقیقات کا محور یہی ہوگا کہ آیا یورپی جنگلات کی پالیسیاں ایسے مستقبل کے لیے تیار ہیں جہاں ہر موسمِ گرما میں اس طرح کے "غیر معمولی” واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔
سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی افق پر آگ کی دیوار اب بھی بلند ہے۔ فائر فائٹرز اگلے 48 گھنٹوں کے لیے تیار ہیں، جبکہ موسم کی پیش گوئی میں بارش کا کوئی امکان نہیں جو ان کے لیے تھوڑی راحت کا باعث بن سکے۔ عارضی پناہ گاہوں میں موجود خاندانوں کے لیے اب صرف ایک ہی تلخ حقیقت باقی ہے کہ وہ جس زمین پر واپس جائیں گے، وہ ہمیشہ کے لیے بدل چکی ہوگی۔
