سینٹ فیلکس ڈی پیلیئرز میں اب زندگی کی رمق باقی نہیں رہی۔ وہ گاؤں جہاں کبھی پتھر کے قدیم مکانات اور سجے ہوئے باغات میں چہل پہل ہوا کرتی تھی، وہاں اب صرف سناٹا ہے۔ جلی ہوئی کھڑکیوں کے کواڑ ہوا میں ٹکراتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے کوئی غیبی آواز گاؤں کے اجڑنے کا نوحہ پڑھ رہی ہو۔
گزشتہ اگست میں فرانس کے علاقے ‘گارڈ’ میں لگنے والی ہولناک آگ نے صرف پائن کے جنگلات کو ہی نہیں جلایا، بلکہ اس بستی کے سماجی تانے بانے کو بھی راکھ کر دیا۔ آگ بجھنے کے تین ماہ کے اندر، یہاں کے 40 فیصد رہائشی اپنا سامان سمیٹ کر نقل مکانی کر گئے۔ ان کے گھر اب حکومتی کاغذات میں ‘ناقابل رہائش’ قرار دیے جا چکے ہیں۔
میئر جین پیئر ووڈن اب ایک ایسے ٹاؤن ہال میں بیٹھتے ہیں جو 80 سے کم رہ جانے والے لوگوں کے لیے بہت بڑا محسوس ہوتا ہے۔
میئر نے اس پہاڑی سلسلے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا، "لوگوں نے صرف اپنے گھر نہیں کھوئے، انہوں نے یہاں مستقبل کا تصور ہی کھو دیا ہے۔ آپ چھت تو دوبارہ تعمیر کر سکتے ہیں، لیکن جب وہ جنگل ہی ڈھانچہ بن جائے جہاں آپ پلے بڑھے ہوں، تو وہاں تحفظ کا احساس واپس نہیں آتا۔”
معاشی تباہی کا اثر فوری اور شدید ہے۔ گاؤں کی مرکزی کشش—اس کے سرسبز و شاداب جنگلات—اب کوئلے کا ڈھیر بن چکے ہیں، جس کے نتیجے میں مقامی سیاحت کا شعبہ مکمل طور پر بیٹھ گیا ہے۔ وہ چھوٹی سی کافی شاپ جو گاؤں کی غیر سرکاری پارلیمان سمجھی جاتی تھی، گاہک نہ ہونے کے باعث اکتوبر میں ہمیشہ کے لیے بند ہو گئی۔
جو چند خاندان وہاں ٹھہر گئے ہیں، ان کی زندگی اب تنہائی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ بجلی کے تار اکثر کٹے رہتے ہیں، اور نباتات سے محروم زمین اب ہر بارش کے ساتھ مٹی کے تودے گرنے کا خطرہ پیدا کر دیتی ہے۔
انشورنس کمپنیوں کا رویہ بہت سے لوگوں کے لیے آخری دھچکا ثابت ہوا۔ زیادہ تر گھر مالکان کو یہ جان کر صدمہ ہوا کہ ان کی پالیسیوں میں ‘موسمیاتی تبدیلیوں’ کے باعث لگنے والی غیر معمولی آگ کا احاطہ شامل نہیں تھا۔ اب ان کے پاس ان مکانوں کے قرضے باقی ہیں جن میں وہ رہ بھی نہیں سکتے۔
آج یہ گاؤں جلی ہوئی زمین میں گڑے ‘برائے فروخت’ کے بورڈز کا مجموعہ بن چکا ہے۔ کچھ مالکان نے جائیداد کی قیمتوں میں 60 فیصد تک کمی کر دی ہے، اس امید پر کہ کوئی سرمایہ کار یا شہر کا کوئی شوقین اسے خرید لے۔ لیکن اب تک دلچسپی لینے والے صرف وہ لکڑی کے تاجر ہیں جو جلے ہوئے درختوں کی باقیات کو بیچ کر منافع کمانا چاہتے ہیں—یہ ستم ظریفی ان چند مقامی لوگوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہے جنہوں نے دہائیوں تک ان درختوں کی حفاظت کی تھی۔
وادی میں جب سورج غروب ہوتا ہے، تو اس بھوت نگر میں اسٹریٹ لائٹس خود بخود جل اٹھتی ہیں۔ سینٹ فیلکس ڈی پیلیئرز کی تعمیرِ نو اب صرف لکڑی اور سیمنٹ کا مسئلہ نہیں ہے، یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب شاید وقت کے پاس بھی نہیں: کیا کوئی کمیونٹی تب زندہ رہ سکتی ہے جب اس کا ماحول ہی اس کے خلاف ہو جائے؟
