وزیراعظم شہباز شریف نے حکومتی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو تیز کرتے ہوئے تمام سرکاری خدمات کو ایک ہی ڈیجیٹل شناختی نظام کے تحت لانے کا حکم دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں اور سرکاری دفاتر کے درمیان موجود بیوروکریٹک رکاوٹوں کو ختم کرنا ہے تاکہ ایک ہی شناختی کارڈ کے ذریعے تمام سہولیات تک رسائی ممکن بنائی جا سکے۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایت کے مطابق، موجودہ بکھرے ہوئے نظام کو ختم کیا جائے گا جس کے تحت شہریوں کو ہر نئی سروس کے لیے بار بار وہی پرانے کاغذات جمع کروانے پڑتے ہیں۔ اس نئے نظام کے نفاذ کے بعد ایک ہی ڈیجیٹل آئی ڈی ٹیکس گوشواروں، یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی، صحت کی سہولیات اور سماجی بہبود کے وظائف کے حصول کے لیے کافی ہوگی۔
فی الحال صورتحال یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر ڈیٹا بیسز کا ایک ایسا جال پھیلا ہوا ہے جو آپس میں منسلک نہیں۔ اس کے نتیجے میں شہریوں کو پاسپورٹ، گاڑیوں کی رجسٹریشن یا پنشن کے حصول کے لیے بار بار بائیو میٹرک اور دیگر کوائف فراہم کرنے کی اذیت سے گزرنا پڑتا ہے۔
اس منصوبے سے واقف ایک حکومتی عہدیدار کا کہنا ہے کہ "ہمیں اس روایت کو بدلنا ہوگا کہ ہر سرکاری دفتر میں داخل ہونے والے شہری کو دوبارہ اپنی شناخت ثابت کرنی پڑے۔”
حکومت کے لیے سب سے بڑا تکنیکی چیلنج مختلف محکموں کے پرانے ڈیٹا سسٹمز کو نادرا کے جدید ڈیٹا بیس کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے۔ وزیراعظم آفس نے اس منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور تمام متعلقہ وزارتوں کو دو ہفتوں کے اندر اپنے ڈیٹا کی منتقلی کا ٹائم لائن فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔
دوسری جانب، ٹیکنالوجی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تمام حساس معلومات کو ایک ہی پورٹل پر منتقل کرنے سے سائبر حملوں کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ ماضی میں ڈیٹا لیک ہونے کے واقعات کو دیکھتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک مرکزی نظام کی سیکیورٹی اتنی ہی مضبوط ہو سکتی ہے جتنا اس کا کمزور ترین حصہ۔ کابینہ نے تاحال اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اس مشترکہ ڈیٹا بیس کو محفوظ بنانے کے لیے کس قسم کی جدید انکرپشن اور سائبر سیکیورٹی پروٹوکولز استعمال کیے جائیں گے۔
فی الحال حکومت اس نظام کو پہلے وفاقی محکموں میں پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر شروع کرے گی، جس کے بعد اسے ملک بھر میں لاگو کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ شہریوں کی زندگی آسان بناتا ہے یا بیوروکریسی کے نئے جال میں الجھ جاتا ہے، اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت مختلف محکموں کو ایک پیج پر لانے میں کتنی کامیاب ہوتی ہے۔
اگر یہ منصوبہ کامیابی سے مکمل ہوتا ہے تو یہ پاکستان کی انتظامی تاریخ میں گزشتہ ایک دہائی کی سب سے بڑی تبدیلی ہوگی۔ تاہم، اگر تکنیکی رکاوٹیں برقرار رہیں تو یہ ایک اور بلند بانگ دعویٰ بن کر رہ جائے گا جو ملک کے فرسودہ دفتری کلچر کی نذر ہو سکتا ہے۔
