نئی سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ویلوسی ریپٹر، جو دنیا کے مشہور ترین ڈائنوسارز میں شمار ہوتا ہے، حقیقت میں ہالی ووڈ کی فلموں میں دکھائے گئے خوفناک رینگنے والے جانور سے کہیں زیادہ پرندہ نما تھا۔
ماہرینِ قدیم حیاتیات (پیلیونٹولوجسٹ) کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں دریافت ہونے والے فوسلز نے ثابت کیا ہے کہ ویلوسی ریپٹر کا جسم پروں سے ڈھکا ہوا تھا۔ ان پروں کا مقصد اڑنا نہیں بلکہ جسم کو گرم رکھنا، توازن برقرار رکھنا اور ممکنہ طور پر دوسرے جانوروں کو متاثر کرنا تھا۔
سائنسدانوں کے مطابق ویلوسی ریپٹر تقریباً 7 کروڑ 50 لاکھ سے 7 کروڑ 10 لاکھ سال پہلے کریٹیشیئس دور کے آخری حصے میں موجود تھا۔ یہ موجودہ منگولیا اور چین کے بعض علاقوں میں پایا جاتا تھا۔ فلموں میں دکھائے گئے بڑے ڈائنوسار کے برعکس، اس کی لمبائی تقریباً 2 میٹر (6.5 فٹ) اور وزن صرف 15 سے 20 کلوگرام تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ویلوسی ریپٹر ایک تیز رفتار اور ذہین شکاری تھا، جو اپنے نوکیلے دانتوں، مضبوط پنجوں اور پچھلی ٹانگ کے خم دار ناخن کی مدد سے چھوٹے جانوروں کا شکار کرتا تھا۔ تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ صرف طاقت پر انحصار کرنے کے بجائے رفتار، مہارت اور حکمتِ عملی کے ذریعے شکار کرتا تھا۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ آج کے جدید پرندے دراصل قدیم ڈائنوسارز کے قریبی زندہ رشتہ دار ہیں، اور ویلوسی ریپٹر کے پروں والے فوسلز اس ارتقائی تعلق کا مضبوط ثبوت فراہم کرتے ہیں۔
جدید سی ٹی اسکین، تھری ڈی ماڈلنگ اور فوسلز کے تفصیلی تجزیے نے سائنسدانوں کو ویلوسی ریپٹر کی حقیقی جسمانی ساخت کو پہلے سے کہیں زیادہ درست انداز میں سمجھنے میں مدد دی ہے۔ ان تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اصل ویلوسی ریپٹر فلموں میں دکھائے گئے کردار سے زیادہ دبلا، ہلکا اور پرندوں سے مشابہت رکھتا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہالی ووڈ نے فلمی دلچسپی بڑھانے کے لیے ویلوسی ریپٹر کی شکل و صورت میں کئی تبدیلیاں کیں، جبکہ سائنسی تحقیق اس کی حقیقی ساخت اور طرزِ زندگی کی مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔
یہ نئی تحقیق نہ صرف ڈائنوسارز کے ارتقا کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ سائنسی دریافتیں وقت کے ساتھ قدیم جانداروں کے بارے میں ہماری معلومات کو مسلسل بہتر بنا رہی ہیں۔
