چین کے شمال مشرقی صوبوں میں ٹائفون ‘میسک’ کے نتیجے میں ہونے والی شدید بارشوں اور سیلاب نے کم از کم 15 افراد کی جان لے لی ہے۔ طوفان کے گزرنے کے بعد ہر طرف تباہی کے مناظر ہیں، جہاں زرعی زمینیں زیرِ آب آ چکی ہیں اور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
صوبہ جیلن میں امدادی ٹیموں کو اب بھی ان دور دراز دیہات تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے جہاں بجلی کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو چکا ہے اور سڑکیں کیچڑ اور ملبے کے باعث بند ہیں۔ صوبائی حکام نے جمعرات کی رات ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زیادہ تر اموات اس وقت ہوئیں جب پانی کا ریلا گھروں کی دیواروں کو بہا لے گیا۔
مقامی کسانوں کے لیے صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ خطے کی اہم فصل، مکئی کے ہزاروں ایکڑ رقبے پر کھڑا پانی فصل کو تباہ کر چکا ہے۔ اگرچہ مالی نقصان کا حتمی تخمینہ ابھی باقی ہے، لیکن ماہرینِ زراعت کو خدشہ ہے کہ فصلوں کی تباہی سے مقامی سپلائی چین پر گہرا اثر پڑے گا۔
یانجی کے ایک رہائشی نے بتایا کہ "پانی کی سطح توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے بلند ہوئی۔ میں نے پوری رات اپنی چھت پر گزاری جبکہ نچلی منزل مکمل طور پر ڈوب چکی تھی۔ ہم نے پہلے بھی طوفان دیکھے ہیں، لیکن ایسی صورتحال نہیں دیکھی کہ گلیاں چند گھنٹوں میں دریا کا منظر پیش کرنے لگیں۔”
طوفان کا مرکز تو آگے بڑھ چکا ہے، لیکن خطرہ ابھی ٹلا نہیں۔ لیاؤننگ اور ہیلونگ جیانگ کے موسمیاتی مراکز نے لینڈ سلائیڈنگ کے حوالے سے مسلسل انتباہ جاری کر رکھے ہیں۔ زمین پانی سے مکمل سیر ہو چکی ہے، جس کے باعث پہاڑی علاقوں میں مزید تودے گرنے کا خدشہ موجود ہے۔
حکومت نے پانچ ہزار سے زائد امدادی کارکنوں کو متاثرہ علاقوں میں تعینات کیا ہے، جو کشتیوں کے ذریعے پھنسے ہوئے لوگوں کو نکال کر سکولوں اور کمیونٹی مراکز میں قائم عارضی پناہ گاہوں تک پہنچا رہے ہیں۔ اس سب کے باوجود، سوشل میڈیا پر حکام کی جانب سے بروقت وارننگ نہ دینے پر تنقید کی جا رہی ہے؛ متاثرین کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی املاک محفوظ بنانے کے لیے مناسب وقت نہیں ملا۔
بے گھر ہونے والے خاندانوں کو بحالی کے طویل عمل کا سامنا ہے، جبکہ علاقائی حکومت نے ہنگامی امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ فی الحال توجہ صرف ریسکیو آپریشنز پر مرکوز ہے، جہاں امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
