نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے گریز کریں۔ جو عمل خاندان اور دوستوں کے لیے محض یادگاریں محفوظ کرنے کا ذریعہ لگتا ہے، وہ اب آن لائن شکاریوں اور شناخت چوری کرنے والے مجرموں کے لیے ایک بڑا موقع بن چکا ہے۔
ایجنسی کی حالیہ ایڈوائزری ایک تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے۔ ایک بار جب کوئی تصویر انٹرنیٹ پر اپ لوڈ ہو جائے، تو اس پر آپ کا اختیار ختم ہو جاتا ہے۔ مجرم ان تصاویر کے ذریعے بچوں کا ڈیٹا اکٹھا کر رہے ہیں، جبکہ فراڈ کرنے والے نجی تفصیلات—جیسے سالگرہ، اسکول یونیفارم، اور رہائشی مقامات—کا فائدہ اٹھا کر بچوں کی شناخت چرانے جیسے جرائم میں ملوث ہیں۔
این سی اے کے ترجمان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "شیئر کی گئی ہر تصویر ایک مستقل ڈیجیٹل نشان ہے۔ والدین سمجھتے ہیں کہ وہ یادیں بانٹ رہے ہیں، لیکن درحقیقت وہ انجانے میں مجرموں کو ایک مکمل روڈ میپ فراہم کر رہے ہیں۔”
خطرات صرف پرائیویسی تک محدود نہیں ہیں۔ جدید فیشل ریکگنیشن (چہرہ شناخت کرنے والی) ٹیکنالوجی اب عام دستیاب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نیک نیتی سے لگائی گئی تصاویر بھی محفوظ کی جا سکتی ہیں اور غلط مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔ این سی اے کا کہنا ہے کہ روزانہ اپ لوڈ ہونے والے مواد کی بھاری مقدار کی وجہ سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے ان تصاویر کے غلط استعمال کو روکنا تقریباً ناممکن ہے۔
پرائیویسی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین کا اپنے بچوں کی زندگیوں کو حد سے زیادہ شیئر کرنا—جسے ‘شیئرنٹنگ’ کہا جاتا ہے—ایک ایسا مستقل ریکارڈ بنا دیتا ہے جس پر بچوں کی اپنی کوئی رضامندی شامل نہیں ہوتی۔ این سی اے کا یہ اقدام اب اس بحث کو ڈیجیٹل آداب سے نکال کر جسمانی اور مالی تحفظ کے سنگین مسئلے کی طرف لے آیا ہے۔
اگر شیئر کرنا ناگزیر ہو، تو ایجنسی نے کچھ سخت ہدایات جاری کی ہیں: تصاویر سے میٹا ڈیٹا ہٹائیں، پرائیویسی سیٹنگز کو انتہائی سخت رکھیں، اور سب سے بڑھ کر یہ سوچیں کہ کیا یہ پوسٹ واقعی ضروری ہے۔
پیغام واضح ہے: آپ کے بچے کی پرائیویسی سوشل میڈیا پر دکھانے کی چیز نہیں ہے۔ آج کے دور میں، جب ڈیٹا چوری خودکار ہو چکا ہے، آپ کے بچے کی تصویر کے لیے محفوظ ترین مقام انٹرنیٹ سے باہر ہی ہے۔
