یورپ کا 2024 کا ریکارڈ توڑ موسم گرما محض ایک موسمیاتی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک ایسا امتحان تھا جس میں پورا براعظم ناکام دکھائی دیا۔ اٹلی کے جھلسے ہوئے انگور کے باغات سے لے کر وسطی یورپ میں سیلابی ریلوں تک، ماحولیاتی بحران اب پالیسی بحثوں سے نکل کر روزمرہ کی معاشی تباہی کا سبب بن چکا ہے۔
اعداد و شمار تشویشناک ہیں۔ کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس نے اگست کو عالمی سطح پر تاریخ کا گرم ترین مہینہ قرار دیا ہے، جہاں یورپی درجہ حرارت نے انفراسٹرکچر کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔ یہ محض گرمی کی لہر نہیں تھی؛ ماہرینِ موسمیات کے مطابق "ویدر وہیل لیش” (موسمیاتی تضاد)—یعنی شدید خشک سالی کے فوراً بعد طوفانی بارشیں—نے میونسپل بجٹ کو درہم برہم کر کے رکھ دیا ہے۔
اس کا پہلا شکار کسان بنے ہیں۔ اسپین اور اٹلی میں گندم اور زیتون کی پیداوار مسلسل دوسرے سال بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ زیتون کے تیل جیسی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں بعض منڈیوں میں 50 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جس کی براہِ راست وجہ وہ طویل گرم ہوائیں ہیں جنہوں نے فصلوں کو پکنے سے پہلے ہی جلا دیا۔ یورپی سینٹرل بینک نے پہلے ہی اشارہ دیا ہے کہ یہ "کلائمیٹ فلیشن” (ماحولیاتی مہنگائی) صارفین کی قوتِ خرید کو مستحکم رکھنے کی کوششوں میں بڑی رکاوٹ ہے۔
بیسویں صدی کے موسموں کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا انفراسٹرکچر اب جواب دے رہا ہے۔ جرمنی اور فرانس میں ریلوے نیٹ ورک شدید گرمی کے باعث پٹریوں کے ٹیڑھے ہونے کی وجہ سے کئی بار معطل رہا، جبکہ بجلی کے گرڈز ایئر کنڈیشنگ کی بڑھتی ہوئی مانگ اور خشک ہوتے آبی ذخائر سے پن بجلی کی پیداوار میں کمی کے درمیان توازن قائم کرنے میں ناکام رہے۔
یورپی یونین کی ‘اڈاپٹیشن ٹاسک فورس’ کے ساتھ کام کرنے والے ایک انفراسٹرکچر کنسلٹنٹ کہتے ہیں، "ہم ایک ہنگامی حالت کو مستقل بنیادوں پر سنبھال رہے ہیں۔” ان کا کہنا ہے کہ ہزاروں میل طویل ریلوے لائنوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا اور شہروں کو ٹھنڈا رکھنا صرف تکنیکی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ اربوں یورو کا ایک ایسا بل ہے جس کا تخمینہ کسی بھی رکن ملک کے طویل مدتی بجٹ میں شامل نہیں ہے۔
سیاسی اثرات بھی واضح ہیں۔ حکومتیں جب قدرتی آفات کے لیے فنڈز مختص کرنے کی تگ و دو کر رہی ہیں، تو یورپی یونین کے ‘گرین ڈیل’ پر شمالی اور جنوبی ممالک کے درمیان خلیج وسیع ہو رہی ہے۔ جنوبی ممالک کے رہنما ماحولیاتی موافقت کے لیے تیزی سے فنڈز کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ شمالی دارالحکومتیں مالی بوجھ اٹھانے سے ہچکچا رہی ہیں۔
2024 کے موسم گرما نے ثابت کر دیا ہے کہ یورپ کی موجودہ حکمتِ عملی صرف ردعمل پر مبنی ہے، پیشگی تیاری پر نہیں۔ جب تک یہ براعظم بحالی کے بجائے اپنے انفراسٹرکچر کو شدید گرمی کے نئے تقاضوں کے مطابق دوبارہ انجینئرنگ نہیں کرتا، تب تک یہ "انتہائی” موسم گرما ایک مہنگا معمول بن کر رہے گا۔
