جماعتِ اسلامی نے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں اضافے کے خلاف اپنی تحریک کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جماعت کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے 16 اگست کو ملک بھر کے صوبائی دارالحکومتوں میں دھرنے دینے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے حکومت پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
یہ احتجاجی تحریک جماعت اسلامی کے حالیہ "حق دو عوام کو” مہم کا اگلا مرحلہ ہے۔ پارٹی قیادت نے حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے اب براہِ راست صوبائی مراکز کو ہدف بنایا ہے تاکہ وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف عوامی غصے کو ایک منظم شکل دی جا سکے۔
منگل کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے واضح کیا کہ یہ دھرنے محض علامتی نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ "عوام مہنگائی کی چکی میں پس چکے ہیں، اب مزید ٹیکسوں کا بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے۔” انہوں نے حکومت کے مہنگائی کے اعدادوشمار کو مسترد کرتے ہوئے اسے زمینی حقائق کے منافی قرار دیا۔
جماعتِ اسلامی کی یہ حکمت عملی وفاقی حکومت کے لیے دردِ سر بن سکتی ہے۔ ایک ہی وقت میں کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں دھرنوں کا مطلب یہ ہے کہ حکومتی مشینری کو بیک وقت چار بڑے شہروں میں انتظامی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، ان دھرنوں میں ٹریڈ یونینز اور تاجر تنظیموں کو بھی شامل کیا جا رہا ہے تاکہ احتجاج کو مؤثر بنایا جا سکے۔
دوسری جانب، حکومتی حلقے ابھی تک اپنی معاشی پالیسیوں پر قائم ہیں۔ وزارتِ خزانہ کے حکام کا مؤقف ہے کہ پیٹرولیم لیوی میں اضافہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کا حصہ ہے، جس سے انحراف ملکی معاشی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ ریونیو اہداف کے حصول کے لیے ٹیکسوں کا نفاذ ناگزیر ہے۔
تاہم، سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی بے چینی کے پیشِ نظر حکومت کے لیے یہ دباؤ برداشت کرنا آسان نہیں ہوگا۔ پیٹرولیم لیوی کا معاملہ اب صرف معاشی نہیں بلکہ ایک سیاسی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کا فائدہ اپوزیشن جماعتیں اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
16 اگست کی تاریخ قریب آتے ہی سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جماعتِ اسلامی نے اپنی یوتھ ونگ اور کارکنوں کو متحرک کر دیا ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے کسی بھی ممکنہ "آپریشنل رکاوٹ” کا خدشہ بھی موجود ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ احتجاج حکومت کو پالیسی میں تبدیلی پر مجبور کر سکے گا یا پھر یہ تعطل مزید طویل ہوتا جائے گا۔
