آزاد کشمیر میں بجلی کے نرخوں اور آٹے کی قیمتوں پر شروع ہونے والا احتجاج اب وفاقی حکومت کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ یہ تحریک محض ایک مقامی مسئلہ نہیں رہی، بلکہ یہ وفاق کی سخت مالیاتی پالیسیوں اور عوامی مشکلات کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کا شاخسانہ ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کی زیرِ قیادت ہونے والے مظاہروں نے کئی روز تک خطے میں پہیہ جام رکھا اور کاروبار زندگی مفلوج کیے رکھا۔ وفاقی حکومت نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بجلی کے بلوں اور آٹے پر سبسڈی کے لیے اربوں روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان تو کر دیا، لیکن یہ اقدام اس بنیادی تضاد کو مزید نمایاں کرتا ہے: حکومت آئی ایم ایف کی سخت شرائط اور عوامی ریلیف کے درمیان توازن کیسے قائم رکھے؟
اسلام آباد کا ردعمل ابتداء میں روایتی اور ہنگامی نوعیت کا رہا۔ حکومت نے سڑکوں پر جاری احتجاج کو ٹھنڈا کرنے کے لیے وقتی طور پر سبسڈی کا سہارا لیا، لیکن ماہرین اسے مستقل حل نہیں مانتے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بارہا کہہ چکے ہیں کہ ملکی خزانے میں گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہر ریلیف پیکج دراصل قومی بجٹ پر بوجھ ہے، جو پہلے ہی قرضوں کی ادائیگی کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے۔
سیاسی سطح پر بھی حکومت کی حکمت عملی سوالات کے گھیرے میں ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ احتجاج کے ابتدائی دنوں میں طاقت کا استعمال، پکڑ دھکڑ اور انٹرنیٹ کی بندش نے مظاہرین کے غصے کو مزید ہوا دی۔ جب تک حکومت مذاکرات کی میز پر آئی، تب تک معاملہ محض ریلیف سے نکل کر ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے تک پہنچ چکا تھا۔
مظفرآباد کے مقامی رہنماؤں کا موقف ہے کہ خطے کو وفاقی منصوبہ بندی میں ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔ ان کا استدلال ہے کہ جہاں سے ملک کو سستی بجلی فراہم کی جا رہی ہے، وہیں کے مکین بجلی کے بل ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ یہی احساسِ محرومی تحریک کی اصل طاقت ہے۔
حکومت نے ریلیف پیکج دے کر وقتی سکون تو حاصل کر لیا، لیکن خطے کی معاشی ساخت میں موجود بگاڑ وہیں کا وہیں ہے۔ یہ محض وقت خریدنے کی کوشش ہے، پائیدار حل نہیں۔
وفاقی کابینہ اب بجٹ کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ اگر اسلام آباد نے آئی ایم ایف کے اہداف کو عوامی مشکلات پر ترجیح دی، تو وادی میں نظر آنے والا یہ موجودہ سکون محض طوفان سے پہلے کی خاموشی ثابت ہو سکتا ہے۔
